غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی قیدی کے جسدِ خاکی کو حراست میں رکھنے کے اعتراف نے ایک بار پھر لاشوں کو قبضے میں رکھنے اور جبری گمشدگی کے فائل کو نمایاں کر دیا ہے۔ اس عمل پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے قابض اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے جسدِ خاکی کو سیاسی دباؤ اور سودے بازی کے لیے استعمال کر رہا ہے اور ان کے خاندانوں کو ان کے پیاروں کے انجام سے آگاہ ہونے یا انہیں باعزت طریقے سے دفنانے کے حق سے محروم کر رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض فوج نے ایک ایسے قیدی کا جسدِ خاکی اپنے پاس رکھا ہوا ہے جو بیت حانون/ایریز کراسنگ کے قریب واقع قابض صہیونی عقوبت خانوں میں سے ایک میں فوت ہو گیا تھا۔ ادھر یورو-میڈیٹیرینین مانیٹر برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اعتراف کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ یہ اس پالیسی کا دیر سے کیا گیا اقرار ہے جس کی دستاویزات انسانی حقوق کے اداروں نے جنگ کے ابتدائی مہینوں ہی سے تیار کر لی تھیں۔
رامی عبدہ نے واضح کیا کہ مانیٹر نے سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کے جسدِ خاکی کو قبضے میں لینے، نیز قبرستانوں سے لاشیں نکال کر انہیں حراست میں رکھنے کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔ انہوں نے ’قدس پریس‘ کے حوالے سے بتایا کہ سینکڑوں خاندان اب تک اپنے پیاروں کے انجام سے بے خبر ہیں اور نہیں جانتے کہ آیا وہ ملبے تلے شہید ہو چکے ہیں، یا جیلوں کے اندر دم توڑ چکے ہیں یا پھر ان کے جسدِ خاکی کو قابض اسرائیل نے قبضے میں لے رکھا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیل کا جسدِ خاکی کو اپنے قبضے میں رکھنا محض انسانی پہلو تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اسیران اور لاپتہ افراد کے فائل سے متعلق مذاکرات میں بھی ان کے استعمال تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے اسے بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے، جو تنازع کے فریقین کو پابند کرتے ہیں کہ وہ مقتولین کے جسدِ خاکی کا احترام کریں اور انہیں بلا تاخیر یا سودے بازی کے لواحقین کے حوالے کریں۔
یورو-میڈیٹیرینین مانیٹر نے جسدِ خاکی کو سودے بازی کے کارڈ میں تبدیل کرنے کو ’یرغمال بنانے‘ کی ایک شکل قرار دیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ قابض اسرائیل نہ صرف فلسطینی کو اس کی زندگی سے محروم کرتا ہے، بلکہ یہ ظلم اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ وہ اس کے خاندان کو بھی اس کے انجام سے آگاہ ہونے، اس کا جسدِ خاکی حاصل کرنے اور مذہبی و انسانی رسومات کے مطابق تدفین کرنے سے محروم کر دیتا ہے۔
دوسری جانب حقوق انسانی کے کارکن ہشام الشرباتی نے اس بات کی تصدیق کی کہ جسدِ خاکی کو حراست میں رکھنا جبری گمشدگی پر مبنی ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے، خاص طور پر غزہ کی پٹی کے قیدیوں کے حوالے سے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل قیدیوں کی بڑی تعداد کے انجام کو ظاہر کرنے سے گریز کر رہا ہے اور انہیں ان کے اہل خانہ، وکلاء یا ریڈ کراس تک رسائی نہیں دے رہا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ غزہ کے کئی قیدیوں کے انجام کے گرد اب بھی ابہام موجود ہے، جبکہ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ان میں سے کئی قیدیوں کی موت عقوبت خانوں میں تشدد، طبی غفلت یا بھوک کے باعث ہوئی ہے۔
حقوق انسانی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جسدِ خاکی کو مسلسل حراست میں رکھنا موت کی وجوہات سے متعلق شواہد کو مٹانے کی کوششوں پر سوالات اٹھاتا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ گذشتہ مہینوں کے دوران جن لاشوں کو سپرد کیا گیا، ان پر تشدد اور بدسلوکی کے واضح نشانات موجود تھے۔
یورو-میڈیٹیرینین مانیٹر نے ریڈ کراس اور آزاد انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ انہیں حراستی مراکز، قیدیوں کے ریکارڈ اور جسدِ خاکی تک رسائی دی جائے۔ اس کے علاوہ، لاپتہ ہونے والے افراد اور ان قیدیوں کے انجام کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی میکانزم قائم کیا جائے جو حراست کے دوران وفات پا گئے۔ مانیٹر نے اس بات پر زور دیا کہ جسدِ خاکی کو حراست میں رکھنا اور قیدیوں کے انجام کو چھپانا سنگین خلاف ورزی ہے جو بین الاقوامی مجرمانہ احتساب کے لائق جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
