نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے غزہ پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی خاندانوں کے ہمراہ گریسی مینشن میں اپنی رہائش گاہ کے سامنے زیتون کا پودا لگایا، جو امن کے پیغام اور فلسطینی زمینوں اور زیتون کے درختوں کو درپیش جڑ سے اکھاڑنے اور اجاڑنے کے عمل سے جڑا ہوا ایک قدم تھا۔
ممدانی نے تقریب کے دوران کہا کہ “امید ہے کہ امن ہی ہمارا مستقبل ہو گا” جبکہ انہوں نے اپنے “ایکس” پلیٹ فارم اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو کلپ بھی شائع کی جس میں پودا لگانے کے لمحے کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
یہ اقدام نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جمعرات کے روز قابض اسرائیلی حکومت کے سربراہ بنیامن نتن ياهو کے خطاب کے ساتھ ہی سامنے آیا، جس خطاب کے دوران جنرل اسمبلی کے ہال سے بڑی تعداد میں ملکی وفود نے اجتماعی طور پر واک آؤٹ کیا۔
امن کی فلسطینی علامت
“سی این این” نیٹ ورک نے اشارہ کیا کہ زیتون کے درخت اور بالخصوص اس کی شاخیں امن کی علامت ہیں، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینی زیتون کے درختوں کو اکھاڑنے اور ان کا صفایا کرنے کے واقعات کے تناظر میں اس اقدام نے مزید گہری معنویت اختیار کر لی ہے۔
پودے لگانے کا یہ عمل ایک ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب زیتون کے درختوں اور فلسطینی زرعی اراضی کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی آ رہی ہے۔ یہ سب زیتون کے توڑنے کے موسم کی آمد کے ساتھ ہو رہا ہے جو ہزاروں فلسطینی خاندانوں کے لیے آمدنی کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔
ممدانی اور نتنياهو کے درمیان کشیدگی
زیتون کا پودا لگانے کی یہ تقریب نیویارک کے دورے کے دوران بنیامن نتن ياهو اور زہران ممدانی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں پیش آئی، جہاں نتن ياهو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے آئے تھے۔
نتن ياهو نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ شائع کی تھی جس میں انہوں نے ممدانی پر اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی حمایت کرنے اور نیویارک کے یہودیوں کے خلاف فسادات کو ہوا دینے کا الزام لگایا تھا، اور یہ الزام اس وقت لگایا گیا جب ممدانی نے نتن ياهو کو “جنگی مجرم” قرار دیا تھا۔
ممدانی نے جنرل اسمبلی میں نتنياهو کے خطاب کا جواب دیتے ہوئے اس میں کہی گئی باتوں کو “بے بنیاد جھوٹ کی تکرار” قرار دیا، اور کہا کہ نتنياهو کی طرف سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کا استعمال اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا جا سکتا ہے۔
ممدانی نے نیویارک کے مقامی میڈیا کو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ نتن ياهو نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا استعمال ان جھوٹ کو دہرانے کے لیے کیا جن کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف جنگ کو جواز فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیانات نتنياهو کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ کو منسوخ نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کوئی بھی جھوٹ اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا کہ وہ گرفتاری کے وارنٹ کے تحت مطلوب شخص ہیں”۔
اس تناظر میں ممدانی کی طرف سے ان کی رہائش گاہ کے سامنے لگایا گیا زیتون کا پودا ایک وسیع تر پیغام کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جو تاریخی طور پر فلسطینی زمین اور امن سے جڑی ہوئی اس درخت کی علامت اور نیویارک کے دورے کے دوران نتن یاهو کے ساتھ جڑے ہوئے کشیدہ سیاسی منظر نامے کو آپس میں ملاتا ہے۔
