مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکز برائے سیاسی ترقیاتی ویژن کے تیار کردہ فلسطینی رائے عامہ کے ایک استطلاع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 57.4 فیصد فلسطینی آئندہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ 24.3 فیصد کا ارادہ شرکت کرنے کا نہیں ہے، اس کے برعکس 18.3 فیصد نے تاحال اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔
یہ سال 2026ء کے شمارہ نمبر (9) کی حامل ہے 28 اگست سے 7 ستمبر سنہ 2026ء کے دوران منعقد کی گئی، جس میں مغربی کنارے اور غزہ پٹی سے تقریباً 1,370 افراد نے حصہ لیا، اور اس کا مقصد و صدارتی انتخابات کے انعقاد اور اس کی تیاریوں سے متعلق فلسطینی عوام کے موقف کا جائزہ لینا تھا۔
غزہ پٹی میں لسٹوں کے مابین سخت تقابل
غزہ پٹی کے حوالے سے نتائج نے ظاہر کیا کہ اگر انتخابات منعقد ہوں تو وہاں کی اہم لسٹوں کے مابین نسبتاً قریبی مسابقت موجود ہوگی، جہاں تحریک فتح نے ووٹوں کی نیت کے تناسب سے 29.9 فیصد حاصل کیے، جبکہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کا تناسب 25.2 فیصد رہا۔
رائے عامہ کے مطابق آزاد اور ماہرین کی لسٹوں کی متوقع تائید کا تناسب 17.0 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ محمد دحلان کے دھڑے کی لسٹوں کو 14.2 فیصد ووٹ ملے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پٹی میں اہم انتخابی آپشنز کے درمیان گہرا تقابل پایا جاتا ہے۔
تحریک فتح کی لسٹوں میں مروان البرغوثی آگے
تحریک فتح کے اندر مختلف لسٹوں کے سینیریوز پیش کیے گئے تو مروان البرغوثی کی قیادت والی ایک متوقع لسٹ 31.0 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہی، جبکہ محمود عباس کی قیادت والی سرکاری فتح لسٹ کو 20.3 فیصد ووٹ ملے، اس کے علاوہ محمد دحلان کی لسٹ کی متوقع تائید کا تناسب 17.9 فیصد رہا۔
آزاد امیدوار اور سول سوسائٹی ترجیحات میں سب سے آگے
شرکا میں سے 68.5 فیصد نے ایسی لسٹوں کی حمایت کا اظہار کیا جن میں آزاد افراد، سرگرم کارکنان اور سول سوسائٹی کے اداروں کے نمائندے شامل ہوں، اس کے مقابلے میں 70.8 فیصد نے ایسی لسٹیں بنانے کی مخالفت کی جو محض خاندانی بنیادوں پر انحصار کرتی ہوں۔
سروے نے یہ بھی دکھایا کہ 56.7 فیصد شرکا سیاسی جماعتوں کی شرکت کے بغیر سابقہ سیاسی شخصیات، تعلیمی نخبہ اور آزاد افراد پر مشتمل لسٹ کو ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔
جہاں تک عريض قومی لسٹ کے سینیریو کا تعلق ہے، تو اس کے لیے متوقع ووٹنگ کا تناسب 41.8 فیصد رہا، جبکہ 44.5 فیصد نے کہا کہ وہ اس کو ووٹ نہیں دے سکتے۔
حماس کا موقف
انتخابات میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی شرکت کے اختیارات کے حوالے سے، ماہرین، اکادمی ماہرین اور نخبہ افراد پر مشتمل ایک تنہا لسٹ نے 48.0 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ تائید حاصل کی۔
حماس کے محمد دحلان کے دھڑے اور بائیں بازو کی نیز قومی طاقتوں کے ساتھ اتحاد کے سینیریو کو 41.7 فیصد تائید ملی، جبکہ محمود عباس کے مخالف فتح کے رہنماؤں کے ساتھ اتحاد کی متوقع تائید کا تناسب 33.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
قومی اتفاق رائے کا فقدان شرکت کی راہ میں بڑی رکاوٹ
انتخابات میں شرکت کو خطرے سے دوچار کرنے والے عوامل کے حوالے سے، قومی اتفاق رائے کی حامل لسٹ کا غياب 62.8 فیصد کے ساتھ سرفہرست وجوهات میں شامل رہا، اس کے بعد امیدواروں کی لسٹوں پر عدم اعتماد 60.8 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
فصائل اور جماعتوں پر عدم اعتماد کا تناسب 60.0 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو استطلاع کے نتائج کے مطابق اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ انتخابی لسٹوں کی شکل اور انتخابی استحقاق سے قبل ابھرنے والی اتحادوں کی نوعیت ووٹنگ کے توازن اور شرحِ اقبال کو طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
سروے کے نتائج تشریعی اور صدارتی انتخابات کے لیے پیش کیے جانے والے سینیریوز پر فلسطینی عوام کے خیالات کی عکاسی کرتے ہیں، بالخصوص جب لسٹوں، اتحادوں اور فصائل، آزاد افراد نیز سیاسی و سماجی طاقتوں کی شرکت سے متعلق کثیر الجہتی اختیارات زیرِ بحث ہوں۔
