Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

غزہ کے محاصرے کے خلاف بین الاقوامی امدادی قافلہ فرانس سے روانہ ہوگا

پیرس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ترکیہ میں ’قافلہ فلسطین‘ کے وفد نے اعلان کیا ہے کہ وہ 26 جولائی سنہ 2026ء کو فرانس سے قافلے کے آغاز کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر چکا ہے۔ یہ ایک زمینی سفر ہے جس کا مقصد فلسطین پہنچنا اور اس پر مسلط محاصرے کو توڑنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ بننا ہے۔

اس اعلان کا اظہار استنبول کے ”چیمبرلی ٹاش یوتھ سینٹر“ میں قافلے کے تعارف کے لیے منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے آئے کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے شرکت کی۔

وفد کے کوآرڈینیٹر حسین دورماز نے اس بات پر زور دیا کہ اس اقدام کے بانی فلسطین اور غزہ کی پٹی تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی خاطر پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تاریخ میں پہلی بار ایک نسل کشی کو براہ راست لائیو دیکھ رہی ہے۔

دورماز نے مزید کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس نے انسانیت کے ضمیر پر گہرے زخم لگائے ہیں اور زندہ ضمیر رکھنے والوں میں غم و غصے کی ایک وسیع لہر پیدا کر دی ہے، جو اب عالمی سطح پر یکجہتی کی تحریکوں اور اقدامات میں تبدیل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی اور غزہ کی پٹی پر سخت محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے حقائق کو چھپانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جاری وسیع پروپیگنڈا مہمات کی جانب اشارہ کیا اور عالمی ایجنڈے پر فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھنے کے لیے ڈیجیٹل سرگرمیوں کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

اس تناظر میں وفد میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ تعلقات کے کوآرڈینیٹر داؤد طاش قیران نے وضاحت کی کہ قافلہ اپنا سفر فرانس سے شروع کرے گا، جس کے بعد وہ بوسنیا اور ہرزیگووینا جائے گا تاکہ وہاں کے عوام کے تعاون سے حمایت کے پروگرام منعقد کیے جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ استنبول اس سفر کا دوسرا پڑاؤ ہوگا، جہاں سے قافلہ ترکیہ کے دس صوبوں کا دورہ کرے گا، جن میں برصہ، انقرہ، قونیہ، ادنہ، غازی عینتاب، شانلی اورفہ، دیار بکر، ماردین اور شرناق شامل ہیں، جس کا مقصد شرکت کو وسیع کرنا اور مزید ’یکجہتی کارکن‘ کو متوجہ کرنا ہے۔

طاش قیران نے بتایا کہ قافلہ عراق اور پھر اردن کے راستے فلسطین پہنچنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ زمینی راستہ پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا اور شرکاء اسے پہلی بار اختیار کرنے کے لیے بڑی جوش و خروش کے ساتھ تیاری کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفد استنبول میں ترکیہ اور یورپی ممالک سے آنے والے شرکاء کے لیے شہری سرگرمیوں اور کام کے حوالے سے خصوصی تربیت کا اہتمام کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نقل و حرکت، درپیش مشکلات کے باوجود، فلسطینیوں کے لیے یکجہتی کا پیغام لے کر جا رہی ہے اور یہ باور کراتی ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔

پروگرام میں غزہ کی پٹی سے فلسطینی بچی تسنیم علوان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ انہوں نے ترکیہ اور فلسطین کے حامی اقوام کا شکریہ ادا کیا اور غزہ میں انتہائی مشکل انسانی حالات کا خاکہ پیش کیا، جس میں خوراک اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت اور قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کا ذکر شامل تھا۔

توقع ہے کہ اس قافلے میں دس یورپی ممالک کے کارکن شرکت کریں گے اور فلسطین کی سرزمین تک پہنچنے میں تقریباً 20 دن کا وقت لگے گ

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan