غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل غزہ میں ماہی گیری کے شعبے کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، جو فلسطینیوں کے روزگار کے ذرائع کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی ایک اور شکل ہے۔ اس نے سمندر کو تعاقب اور فائرنگ کا میدان بنا دیا ہے اور ماہی گیری کے پیشے سے جڑی سینکڑوں کشتیوں اور تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے، تاکہ اس اہم ترین شعبے کو گھٹن کا شکار بنایا جا سکے جس پر پٹی کے ہزاروں خاندان انحصار کرتے ہیں۔
’تحفظ برائے انسانی حقوق‘ سینٹر نے “آگ کے نیچے کشتیاں” کے عنوان سے جاری کردہ اپنی ایک نئی حقوقی رپورٹ میں غزہ میں ماہی گیروں اور سمندری شعبے کو درپیش خلاف ورزیوں کے ہولناک اعداد و شمار سے پردہ اٹھایا ہے، جو سات اکتوبر سنہ 2023ء سے لے کر اکتوبر سنہ 2026ء تک کے عرصے پر محیط ہیں۔
سینٹر نے اس بات پر زور دیا کہ اس دوران ماہی گیری کے شعبے کو قتل، زخمی کرنے اور گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ کشتیوں، تنصیبات اور سمندری سہولیات کی وسیع پیمانے پر تباہی کی صورت میں منظم اور براہ راست نشانے کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایسے وقت میں جب ہزاروں فلسطینی خاندان اس پیشے کو روزگار کا بنیادی ذریعہ مانتے ہیں۔
235 ماہی گیر شہید
رپورٹ کے مطابق سینٹر نے 235 فلسطینی ماہی گیروں کی شہادت اور 143 کے زخمی ہونے کی دستاویز بندی کی ہے، جن میں 16 شدید زخمی شامل ہیں، جبکہ ماہی گیروں کے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی کوشش کے دوران 130 گرفتاری کے کیسز بھی درج کیے گئے۔
رپورٹ میں ماہی گیری کی 1810 کشتیوں کی توڑ پھوڑ اور تباہی کا بھی اندراج کیا گیا، جن میں موٹر والی چھوٹی کشتیاں، پتوار والی کشتیاں اور بڑے سمندری لانچ شامل ہیں، جس نے ماہی گیروں کی سمندر تک رسائی اور اپنا کام جاری رکھنے کی صلاحیت کاری ضرب لگائی ہے۔
تباہی صرف کشتیوں تک محدود نہیں رہی، کیونکہ سینٹر نے اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی کے ساحلی پٹی پر موجود 310 میں سے 270 ماہی گیر اسٹیشنوں کو تباہ کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ پانی کو میٹھا کرنے والا ایک پلانٹ، برف کا ایک کارخانہ اور ماہی گیروں کی خدمت کے لیے مخصوص ایک کچن بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
سمندر.. “صفر میل”
تحفظ سینٹر نے واضح کیا کہ اسرائیلی افواج نے جنگ کے پورے دورانیے میں اجازت یافتہ ماہی گیری کے رقبے کو گھٹا کر “صفر سمندری میل” کر دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ غزہ کے پورے ساحل پر براہ راست اور روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہے تاکہ ماہی گیروں کو سمندر تک پہنچنے اور اپنا پیشہ اپنانے سے روکا جا سکے۔
یہ سب پٹی پر جاری سمندری محاصرے کے تناظر میں ہو رہا ہے، جس نے ماہی گیروں، ان کی کشتیوں، آلات اور روزگار کے ذرائع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اور ماہی گیری کے پیشے کو اس میں کام کرنے والوں کی زندگیوں کے لیے ایک خطرناک جوکھم بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ماہی گیروں کو براہ راست نشانہ بنانے کے نتیجے میں وہ اور ان کے اہل خانہ اپنے رہائشی علاقوں سے بے گھر ہو گئے، اس کے علاوہ ان کے آمدنی کے ذرائع کا مکمل خاتمہ بھی ہوا، جس نے غزہ کی پٹی میں مشکل معاشی اور انسانی حالات کو مزید ابتر کر دیا اور خوراک کے تحفظ کے بحران کو گہرا کر دیا۔
سینٹر نے اس بات پر زور دیا کہ ماہی گیری کے شعبے کی تباہی صرف افراد اور کشتیوں کو نشانہ نہیں بناتی، بلکہ یہ ایک مکمل معاشی اور معاشرتی نظام پر ضرب لگاتی ہے جس سے ہزاروں فلسطینی خاندان جڑے ہوئے ہیں، ایسے میں جب محاصرہ جاری ہے اور بنیادی وسائل تک رسائی محدود ہے۔
قابض کے محاسبے کا مطالبہ
اپنی رپورٹ کے آخر میں تحفظ برائے انسانی حقوق سینٹر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور عاجلانہ مداخلت کرے تاکہ ماہی گیروں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور ان کے باعزت طریقے سے کام کرنے اور روزگار کمانے کے حق کو محفوظ بنایا جا سکےّ۔
سینٹر نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ زخمیوں اور مریضوں کے بیرونِ ملک علاج کے سفر کو یقینی بنانے کے لیے راہداریوں کو کھولا جائے، غزہ کی پٹی میں خوراک کی امداد، ادویات اور بنیادی رسد داخل کی جائے، اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق بین الاقوامی انصاف کے آلات کے سامنے ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا کٹہرے میں کھڑا کرنے اور ان کے محاسبے کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
