غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینی صحافیوں اور میڈیا کے نمائندوں کو مسلسل نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین سے اس کی بے اعتنائی اور سچائی کی آواز کو دبانے کی اس کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
جماعت نے اپنے ایک بیان میں گذشتہ ہفتے کے روز الجزیرہ براہ راست کے کیمرہ مین احمد وشاح کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور اسے فلسطینی میڈیا کے خلاف قابض اسرائیل کے جرائم کے طویل ریکارڈ میں ایک نیا اضافہ قرار دیا، جس کا مقصد ان آوازوں کو خاموش کرنا ہے جو فلسطینی عوام کو درپیش قتل، تباہی اور نسل کشی کی حقیقت کو دنیا تک پہنچاتی ہیں۔
حماس نے زور دیا کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کے کارکنوں کو نشانہ بنانا، باوجود اس کے کہ انہیں بین الاقوامی انسانی قانون اور عالمی چارٹروں کے تحت تحفظ حاصل ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض اسرائیل عالمی قوانین اور ضابطوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اور وہ بلا روک ٹوک اپنے جرائم جاری رکھنے پر بضد ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی صحافی اب قابض فوج کا براہ راست ہدف بن چکے ہیں، یہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد سچائی کو چھپانا اور غزہ کی پٹی میں معصوم شہریوں کے خلاف ہونے والے جرائم اور خلاف ورزیوں کی دستاویزی فلم بندی کو روکنا ہے۔
تحریک نے نشاندہی کی کہ یہ پالیسی اس وقت سامنے آئی ہے جب فلسطینی، عرب اور آزاد بین الاقوامی میڈیا قابض اسرائیل کی حرکتوں کو بے نقاب کرنے اور فلسطینی عوام کو درپیش انسانی المیے کی شدت کو دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
’حماس‘ نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق و میڈیا کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، صحافیوں اور شہریوں کے خلاف قابض اسرائیل کے جرائم کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں، انہیں تحفظ فراہم کریں، اور قابض اسرائیل کے رہنماؤں کو متعلقہ بین الاقوامی عدالتوں میں کٹہرے میں لانے کے لیے کام کریں۔
الجزیرہ براہ راست کے کیمرہ مین احمد وشاح گزشتہ روز شام کو وسطی غزہ کی پٹی کے البریج پناہ گزین کیمپ میں قابض اسرائیل کے طیاروں کی جانب سے ایک گھر کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔
احمد وشاح الجزیرہ براہ راست کے نامہ نگار محمد وشاح کے بھائی تھے، جنہیں قابض اسرائیل کے طیاروں نے آٹھ اپریل سنہ 2026ء کو غزہ شہر کے مغرب میں ان کی گاڑی پر بمباری کر کے شہید کر دیا تھا۔
غزہ کی پٹی میں صحافی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہی براہ راست ہدف بن رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کیمرہ مین احمد وشاح کی شہادت کے بعد شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 263 ہو گئی ہے۔
