غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں گولہ باری اور اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ہفتے کو پانچ شہری جامِ شہادت نوش کر گئے جب کہ متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ جنگ بندی کے معاہدے کی پیہم خلاف ورزیوں کو جاری رکھتے ہوئے منازل کو بارود سے اڑانے اور بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بھی بدستور جاری رہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع مواصی خان یونس کے علاقے میں فش فرش کے قریب قابض اسرائیل کے ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
پٹی کے وسطی علاقے میں شہر دیر البلح کے جنوب میں واقع شارع البرکہ میں قابض اسرائیل کے ایک ڈرون کی جانب سے شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں 14 سالہ بچہ محمد ریاض ابو حماد شہید ہو گیا، جبکہ دیگر کئی افراد زخمی ہوئے جن میں ایک بچی کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
شہر غزہ میں، شہر کے شمال مشرق میں واقع محلہ التفاح میں مستوصف الحریہ کے قریب بے گھر افراد کو پناہ دینے والے ایک خیمے پر قابض افواج کے طیاروں کے حملے کے نتیجے میں دو شہری عبد اللہ محمد خمیس جابر اور عماد محمد زاید فارس جابر شہید اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔
اس کے علاوہ شہر غزہ کے شمال مشرق میں واقع محلہ التفاح میں دار الارقم سکول کے قریب قابض اسرائیل کے ڈرون حملے میں ماجد الصباغ نامی شہری شہید ہو گیا۔
پٹی کے وسطی علاقے میں واقع شہر دیر البلح کے مشرقی حصے میں قابض فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے ایک بچی شدید زخمی ہو گئی۔
بمباری، فائرنگ اور گھروں کی تباہی
پٹی کے جنوبی حصے میں، خان یونس کے شمال میں واقع حمد سٹی کے مشرق میں قابض فوج کی گاڑیوں نے شدید فائرنگ کی، جبکہ شہر کے مشرقی علاقوں میں زبردست گولہ باری اور شہر کے جنوب میں نائٹ شیلز پھینکنے کے ساتھ ساتھ کثیف فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
قابض فوج کی گاڑیوں نے خان یونس کے مغرب میں واقع نمساوی قبرستان کے علاقے میں بے گھر افراد کے خیموں پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کی، جس سے انتہائی کٹھن انسانی حالات میں زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کے لیے سیکیورٹی خدشات اور خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
شہر غزہ میں قابض فورسز نے شہر کے شمالی حصوں میں روشنی کے گولے داغے، جس کے ساتھ ساتھ پٹی کے شمالی علاقوں کو توبخانے کی بمباری کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ قابض فوج نے شہر غزہ کے مشرق میں دو بڑی عمارتوں کو بارود سے اڑانے کی کارروائی انجام دی۔
پٹی کے وسطی علاقے میں، البريج کیمپ کے شمال مشرق میں ملٹری گاڑیوں سے ہونے والی مسلسل فائرنگ کے ساتھ ساتھ مخیم کے مشرق میں قابض فورسز کی فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہو گیا، اور اس علاقے میں دوبارہ فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
علاوہ ازیں قابض فوج نے مخیم المغازی کے مشرق میں واقع الزعفران مسجد کے جوار میں ایک رہائشی مکان کو مکمل طور پر مسمار کر دیا۔
خلاف ورزیوں کے نتیجے میں نقصانات کا گراف بلند
قابض اسرائیلی فورسز گذشتہ دس اکتوبر سنہ 2025ء کو طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کو مسلسل پامال کر رہی ہیں، جس کے تحت غزہ کی پٹی کے متفرق حصوں میں بمباری، فائرنگ، نہتے شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور گھروں کو بارود سے تباہ و برباد کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق قابض دشمن کی ان مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 1505 شہری شہید اور 5332 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔
