غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں وزارتِ سماجی ترقی نے ان صیہونی دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جو پٹی میں جاری بھوک کے بحران اور غذائی عدم تحفظ کے تسلسل کا انکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اس کا یہ ماننا ہے کہ مارکیٹ میں بعض اشیائے خوردونوش کے ظاہر ہونے کو حقیقت سے ہٹ کر ایک مختلف تصویر پیش کرنے کے لیے استعمال کرنا فلسطینیوں کو درپیش انسانی المیے کے حجم کو مسخ کرنے کی ایک گھناؤنی کوشش ہے۔
بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک پریس بیان میں وزارت سماجی بہبود نے کہا کہ دکانوں میں کچھ اشیا کی موجودگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ خوراک کافی مقدار میں، باقاعدہ طریقے سے یا ایسی قیمتوں پر دستیاب ہے جنہیں مکین برداشت کر سکیں جبکہ اس نے اس بات پر زور دیا کہ غذائی تحفظ کا حقیقی معیار لوگوں کی طرف سے کافی، متنوع اور مسلسل خوراک حاصل کرنے کی استطاعت ہے نہ کہ مارکیٹ کے شیلفوں پر اس کا محض موجود ہونا۔
وزارت بہود کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبادی کا ایک بڑا حصہ انسانی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہے کیونکہ بیشتر خاندانوں نے اپنے آمدنی کے ذرائع اور اپنی بنیادی ضروریات کو خریدنے کی استطاعت کو کھو دیا ہے جبکہ اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پٹی کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی اپنی خریداری کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے جبکہ پچانوے فیصد سے زائد آبادی مکمل طور پر امداد پر انحصار کرتی ہے۔
وزارت نے اس بحران کو گہرا کرنے کی ذمہ داری قابض دشمن پر عائد کی اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امداد کے داخلے پر عائد پابندیاں اور جنگ بندی کے معاہدے کے تحت پٹی میں روزانہ چھ سو ٹرکوں کے داخلے کی پابندی نہ کرنا پٹی میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
وزارت صحت کا یہ ماننا ہے کہ صیہونی بیانیہ غزہ میں غذائی بحران کی نوعیت سے چشم پوشی کرتا ہے جہاں یہ معاملہ مارکیٹ سے تمام اشیائے خوردونوش کے غائب ہونے کا نہیں ہے بلکہ اپنی غذائی ضروریات کو مستحکم طریقے سے پورا کرنے کی مکینوں کی گرتی ہوئی صلاحیت کا ہے۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بعض امدادی اشیا کے جمع ہونے اور دیگر اشیا کی کمی کے بارے میں شہریوں کی شکایات فلاحی اداروں خصوصاً ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے فوری نظرثانی کا تقاضا کرتی ہیں تاکہ پٹی میں داخل ہونے والی مقداریں اور اقسام مکینوں کی حقیقی ضروریات کے مطابق ہوں۔
وزارت نے میڈیا اور بین الاقوامی برادری کو دعوت دی کہ وہ غذائی واقعے کے بارے میں صیہونی بیانیے پر بھروسہ کرنے سے گریز کریں اور اس کے بجائے فیلڈ کے اعداد و شمار، مکینوں کی گواہیوں اور پٹی کے اندر کام کرنے والے انسانی اداروں کی اطلاعات پر انحصار کریں۔
وزارت سماجی بہبود کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار غزہ میں روزمرہ کی زندگی کے امداد کے داخلے کے ساتھ جڑے ہونے کی حد کو بے نقاب کرتے ہیں ایک ایسے وقت میں جب مقامی معیشت لاکھوں فلسطینیوں کو خوراک فراہم کرنے کی اپنی صلاحیت کھو چکی ہے۔
اس حقیقت کی موجودگی میں سپلائی میں کسی بھی قسم کی کمی یا تاخیر ان خاندانوں پر فوراً اثر انداز ہوتی ہے جو خوراک خریدنے کا کوئی متبادل نہیں رکھتے بالخصوص خریداری کی صلاحیت میں کمی اور بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ۔
حکومتی انتباہات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں نے امداد کے بہاؤ میں اضافے کے نتیجے میں گذشتہ مدت کے دوران غذائی تحفظ کے بعض اشاریوں میں نسبتاً بہتری ریکارڈ کی تھی لیکن انہوں نے اس بہتری کو نازک اور زوال پذیر قرار دیا جبکہ غذائی عدم تحفظ کی بلند سطح اور امداد پر مکینوں کا انحصار اب بھی جاری ہے۔
حالیہ امتی تخمینے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تقریبا چودہ لاکھ افراد یعنی پٹی کی آبادی کا تقریباً دو تہائی حصہ اب بھی شدید غذائی عدم تحفظ کی بلند سطح کا سامنا کر رہا ہے جبکہ بین الاقوامی ادارے اس بات سے خبردار کرتے ہیں کہ امداد کے بہاؤ میں خلل بحران کو دوبارہ شدید ترین سطح پر لے جا سکتا ہے۔
لیکن وزارتِ سماجی ترقی کے نزدیک مسئلے کا جوہر امداد کے مارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے شروع ہوتا ہے: پٹی میں داخل ہونے والی مقدار، اس کے داخلے کا تسلسل، اس کی قسم اور مکینوں کی اس تک رسائی اور اسے خریدنے کی استطاعت۔
وزارت سماجی بہبود اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بحران کے حل کے لیے متفقہ مقدار میں امداد کے بہاؤ کو یقینی بنانا، اس کے تنوع اور معیار کو بہتر بنانا اور سب سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں تک اس کی رسائی کو یقینی بنانا ضروری ہے نہ کہ مارکیٹ میں کچھ اشیا کی موجودگی کو ایک ایسے غذائی بحران کی نفی کرنے کے لیے ایک بہانہ بنانا جس کے اثرات اب بھی فلسطینیوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہے ہیں۔
جبکہ اسرائیل اس منظر کو کچھ اشیائے خوردونوش پر مشتمل مارکیٹوں کی تصویروں تک محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے وزارتِ سماجی ترقی کا کہنا ہے کہ غزہ کے باسیوں کی طرف سے جیا جانے والا حقیقت پسندانہ منظر کسی دکان کے شیلف پر ظاہر ہونے والی چیز سے نہیں ماپا جاتا بلکہ اس چیز سے ماپا جاتا ہے جو ایک خاندان ہر روز اپنے دسترخوان پر رکھ سکتا ہے اور ایک ایسے پٹی میں جہاں نوے فیصد سے زیادہ آبادی خوراک خریدنے کی صلاحیت کھو چکی ہے بھوک کا انکار کرنا ان لوگوں کی طرف سے جیا جانے والی حقیقت کو چھپانے سے قاصر رہتا ہے۔
