Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ میں انتظامی خلا سنگین صورت اختیار کر گیا، عبوری انتظام تاحال تعطل کا شکار

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکز برائے سیاسی مطالعات نے سرکاری ملازمین کی یونین کے تعاون سے منعقدہ ایک ڈائیلاگ سیشن میں شرکاء نے غزہ کی پٹی میں جاری انتظامی خلا کی صورتحال اور بنیادی خدمات، ملازمین اور اہم شعبوں پر اس کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کے بارے میں شدید انتباہ جاری کیا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب قابض اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کی جنگ جاری ہے، عبوری انتظامی راستے تعطل کا شکار ہیں اور عوامی امور کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے کوئی فعال ادارہ موجود نہیں ہے۔

یہ سیشن “غزہ میں انتظامی خلا اور انتظامی کمیٹی کی عدم موجودگی کے ملازمین اور خدمات کے معیار پر اثرات” کے عنوان سے منعقد کیا گیا، جس میں حکومتی وزارتوں، اداروں، یونینوں، پیشہ ورانہ اور سماجی شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سیشن کی نظامت صحافی ایمن دلول نے کی۔

اقتدار کا خلا اور انتظامی خلا میں اضافہ

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں کسی فعال انتظامی اتھارٹی کی عدم موجودگی نے عوامی خدمات کے انتظام میں پیچیدہ بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے منفی اثرات صحت، مقامی حکومت، امدادی سرگرمیوں، بنیادی ڈھانچے اور ملازمین سمیت مختلف سماجی طبقات پر مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک فعال عبوری انتظام کے بغیر نسل کشی کی جنگ کا تسلسل اور ادارہ جاتی ڈھانچے کا خاتمہ جسے انہوں نے “اقتدار کا خلا” قرار دیا، اسے مزید گہرا کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں موجودہ ادارے خدمات کی بحالی کے لیے جواب دینے کی صلاحیت کھو رہے ہیں اور کوئی جامع انتظامی فریم ورک موجود نہیں ہے جو اس مرحلے کو منظم کر سکے یا تعمیر نو کی کوششوں کی قیادت کر سکے۔

شرکاء کی آراء

مرکز برائے سیاسی مطالعات کے ڈائریکٹر رامی خریس نے کہا کہ حالیہ پیش رفت مرکز کے سابقہ تحقیقی مقالے میں پیش کردہ “اقتدار کے خلا” کے مفروضے کی تصدیق کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی کمیٹی اگرچہ تشکیل دی جا چکی ہے لیکن وہ اب بھی غزہ کی پٹی سے باہر ہے اور اس نے اپنے عملی فرائض کا آغاز نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے مرحلے کا انتظام ایک پیچیدہ عبوری خلا میں ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ صورتحال تعمیر نو کی کوششوں کو معطل کر دیتی ہے اور مداخلتوں کو صرف ہنگامی امداد تک محدود رکھتی ہے، جبکہ بحالی کی طرف منتقلی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اب صرف انسانی بحران نہیں بلکہ حکمرانی اور انتظامی بحران بن چکا ہے۔

ملازمین کی یونین کے قائم مقام نائب صدر خلیل حمادہ نے بتایا کہ تقریباً 50 ہزار سرکاری ملازمین “تنخواہوں کے ٹکڑوں” کے سہارے انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ ملازمین براہ راست اور بالواسطہ طور پر چار سے پانچ لاکھ شہریوں کی کفالت کر رہے ہیں۔

تعمیر نو کے امور کے ماہر ناجی سرحان نے بتایا کہ غزہ میں تباہی کا حجم بے مثال ہے، جہاں براہ راست نقصانات تقریباً 37 ارب ڈالر اور بالواسطہ نقصانات 22.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے اور رہائشی سہولیات کی وسیع پیمانے پر تباہی کا ذکر کیا۔

غزہ میں وزارت سماجی ترقی کے انڈر سیکرٹری ریاض البیطار اور مقامی حکومت کے ڈائریکٹر جنرل یاسر حسونہ نے بھی انسانی و خدماتی چیلنجز پر روشنی ڈالی اور میونسپلٹیز، پانی، صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبوں میں درپیش مشکلات کا ذکر کیا۔

سفارشات اور نتائج

شرکاء نے مرحلے کے انتظام کے لیے ایک متحدہ فلسطینی قومی ویژن وضع کرنے پر زور دیا، جو انتظامی تقسیم کے خاتمے اور عوامی اداروں کے کام کو بحال کرنے کے لیے عبوری ڈھانچوں کو فعال کرنے پر مبنی ہو۔ انہوں نے تعمیر نو کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی اپنانے، یونینوں کے کردار کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی اداروں کے کام کے لیے موزوں ماحول فراہم کرنے کی سفارش کی۔

سیشن کے اختتام پر یہ بات زور دے کر کہی گئی کہ غزہ میں انتظامی خلا کا تسلسل مختلف شعبوں میں مزید تباہی کا باعث بنے گا، جس کے لیے ایک ہنگامی قومی اقدام کی ضرورت ہے تاکہ انتظامی نظام کی تعمیر نو کی جا سکے، ایک فعال عبوری انتظام کو بااختیار بنایا جا سکے اور بحالی کی راہ ہموار کی جا سکے، تاکہ شہریوں کی استقامت کو برقرار رکھا جا سکے اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران کی شدت کو کم کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan