Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ: ملبے تلے سے برآمد 100 شہداء کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی

غزہ -(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یہ کوئی عام جنازہ نہیں تھا جس کا مشاہدہ اتوار کے روز صبح کے وقت شہرِ غزہ میں کیا گیا جب فلسطینیوں نے صیہونی جنگ کی تباہ کاریوں کے شکار گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے سے نکالے گئے تقریباً ایک سو شہداء کے اجسامِ پاک کو اپنے کندھوں پر اٹھایا۔

تابوتوں کے اس ہجوم میں ان خاندانوں کی دردناک کہانیوں کا عکس نمایاں تھا جنہوں نے طویل عرصے تک اپنے جگر گوشوں کے اجساد کو واپس پانے کا انتظار کیا تھا، جبکہ جنازے کے یہ مناظر یوں لگ رہے تھے جیسے یہ ان شہداء سے ایک تاخیر سے ہونے والی ملاقات ہو جن کی خبریں طویل عرصے سے ملبے کی تہوں میں گم ہو چکی تھیں۔

فلسطینی عوام کا جم غفیر غزہ کے محلہ الزیتون میں ان پاکیزہ لاشوں اور باقیات کو سپردِ خاک کرنے کے لیے جمع ہوا جنہیں شہری دفاع کے کارکنوں نے ان علاقوں میں تلاش کی کارروائیوں کے دوران باہر نکالا جو شدید ترین تباہی کا نشانہ بنے تھے۔

مقامی اعداد و شمار کے مطابق جن شہداء کے جنازے پڑھے گئے ان میں تقریباً ستر شہداء معصوم بچے تھے، جو اس انسانی قیمت کا ایک ہولناک چہرہ پیش کرتے ہیں جو اس غاصبانہ جنگ نے اس خطے سے وصول کی ہے۔

ان جسد خاکی تک رسائی کا یہ سفر ذرا بھی آسان نہیں تھا کیونکہ یہ شہداء اپنے گھروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سے ملبے کی تہوں تلے دبے ہوئے تھے، اس وقت تباہ شدہ علاقوں تک پہنچنے کی دشواری، آلات کی کمی اور بھاری مشینری کے فقدان نے اس وقت انہیں باہر نکالنے کی اجازت نہیں دی تھی، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا گھروں کے یہ ملبے ایک کھلی قبروں کی شکل اختیار کر گئے جو امدادی ٹیموں کے وہاں پہنچنے کی منتظر تھیں۔

ملبے کے اندھیروں سے واپس لوٹتے جسدخاکی

جنازے کی یہ پروقار تقریب غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں ملبے تلے دفن ہونے والے متاثرین کی تلاش کے جاری تشنہ کاموں کے ساتھ بیک وقت انجام پائی۔

غزہ کے شہری دفاع نے گذشتہ روز تباہ شدہ عمارتوں سے لاشیں نکالنے کے ایک وسیع منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا، جس کا آغاز پناہ گزین کیمپ النصيرات میں واقع ‘برج المهندسين’ سے کیا گیا جسے دو نومبر سنہ 2023ء کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ چھ منزلوں پر مشتمل اس عمارت میں ساڑھے تین سو سے زائد افراد سکونت پذیر تھے، انہوں نے اشارہ کیا کہ اس میں سے لاشیں نکالنے کے عمل میں پچھلے مرحلے میں تقریباً ڈیڑھ سو لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ اب عملے نے اس کے ملبے تلے سے مزید ڈیڑھ سو سے زائد لاشیں نکالنے پر کام شروع کر دیا ہے۔

غزہ میں اس عمارت کی یہ کہانی کوئی انوکھی یا الگ تھلگ داستان نہیں ہے، کیونکہ شہری دفاع کا اندازہ ہے کہ پٹی بھر میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے آٹھ ہزار سے زائد لاشیں اب بھی دبی ہوئی ہیں، ایسے عالم میں جب ریسکیو ٹیمیں اس ہولناک تباہی کے حجم سے نبردآزما ہونے کے لیے ضروری ساز و سامان اور آلات سے بالکل محروم ہیں۔

اس تلخ حقیقت کا مطلب یہ ہے کہ بمباری کا رک جانا یا جنگ کا تھم جانا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ان کے اہل خانہ کے لیے شہداء کی تلاش کا سفر بھی ختم ہو چکا ہے؛ کیونکہ ہزاروں خاندانوں کے لیے جنگ ابھی تک اس صورت میں جاری ہے کہ وہ کسی لاش کے ملنے یا کسی ایسے نشان کے برآمد ہونے کے منتظر ہیں جو ان کے کسی گمشدہ پیارے تک انہیں پہنچا سکے۔

مسلسل بلند ہوتے ہوئے اعداد و شمار

غزہ کی وزارتِ صحت کے سرکاری اعداد و شمار سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ لاشیں نکالنے کے یہ آپریشنز اس جنگ کے مجموعی ریکارڈ میں لگاتار نئے شہداء کا اضافہ کر رہے ہیں۔

تازہ ترین شماریات میں وزارت نے اعلان کیا کہ پچھلے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران ہسپتالوں میں سترہ شہداء لائے گئے ہیں، جن میں گیارہ ایسے شہداء بھی شامل ہیں جن کے جسد خاکی ملبے کے نیچے سے نکالے گئے ہیں، اس کے علاوہ ستائیس زخمی بھی ہسپتال پہنچائے گئے۔ اس طرح سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد سے شہداء کی کل تعداد بڑھ کر تہتر ہزار چھپن ایک ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ چوہتر ہزار پانچ سو پچھتر تک پہنچ گئی ہے۔

وزارتِ صحت نے یہ بھی وضاحت کی کہ اس شماری میں پچھلے مہینے اگست کے دوران کوائف کی تکمیل اور منظوری کے بعد ایک سو ساٹھ شہداء کو بھی مجموعی ریکارڈ میں شامل کر لیا گیا ہے، جو اس بات کی ایک اور روشن دلیل ہے کہ غزہ پر مسلط اس مجرمانہ جنگ کے شکار افراد کے اعداد و شمار اس جنگ کے آغاز کو برسوں گزر جانے کے باوجود اب تک تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔

گذشتہ گیارہ اکتوبر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے ہسپتالوں میں پہنچنے والے شہداء کی تعداد ایک ہزار تین سو چوالیس ہو چکی ہے، جبکہ وزارت نے اسی عرصے کے دوران چار ہزار چار سو چونسٹھ زخمیوں کا اندراج کیا ہے، اس کے علاوہ اسی دورانیے میں آٹھ سو پندرہ لاشیں بھی ملبے سے برآمد کی گئی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan