غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دباؤ ضروری ہے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے کے باقی حصوں کو ان میکانزم کے تحت نافذ کرنے کی راہ ہموار ہو سکے جن پر تمام فریق متفق ہیں۔
حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں کہا کہ “جنگ بندی کے حوالے سے حماس کے مکمل عزم کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ایک مثبت پیش رفت ہے، اور یہ غزہ کی پٹی پر جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر عمل درآمد میں تحریک کی سنجیدگی کی تصدیق کرتا ہے”۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے 29 ستمبر سنہ 2025ء کو غزہ میں قابض اسرائیل کی جنگ روکنے کے لیے 20 نکات پر مشتمل ایک منصوبہ اعلان کیا تھا، جس میں قابض اسرائیل کے اسیروں کی رہائی، اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کو غیر مسلح کرنا، غزہ سے قابض اسرائیل کا مرحلہ وار انخلا، ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی شامل ہے۔
اس منصوبے کا پہلا مرحلہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ ہوا، جبکہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کا اعادہ کر رہی ہے۔ دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی، اپنی خلاف ورزیاں جاری رکھیں اور دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے جنوری کے وسط میں معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے نکات پر عمل درآمد کے طریقہ کار، خاص طور پر قابض اسرائیل کے انخلا، تعمیر نو اور فلسطینی ہتھیاروں کے فائل کے حوالے سے اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
یہ جنگ بندی معاہدہ اس نسل کشی کے دو سال بعد طے پایا جو قابض اسرائیل نے امریکی حمایت کے ساتھ 8 اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع کی تھی۔ اس جنگ کے نتیجے میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ اس جارحیت نے 90 فیصد شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔
