نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سول سوسائٹی کی 190 سے زائد تنظیموں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے ایک مشترکہ بیان میں ورلڈ بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نام نہاد امن کونسل سے فوری طور پر علیحدہ ہو جائے اور غزہ کی تعمیرِ نو و ترقی سے متعلق فنڈنگ کی سہولیات فراہم کرنا بند کر دے۔
مذکورہ دستخط کنندہ اداروں نے واضح کیا کہ یہ مطالبہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری اس ہولناک نسل کشی کے تناظر میں کیا جا رہا ہے جسے قابض اسرائیل نے برپا کر رکھا ہے۔ بیان میں ورلڈ بینک کے اس کردار پر کڑی تنقید کی گئی ہے جس کے تحت وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور ترقی کے مالیاتی وسطی فنڈ (GRAD) کے محدود ٹرسٹی اور مجلس السلام کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن کے طور پر کام کر رہا ہے۔
مشترکہ بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس کونسل کا قیام اور غزہ کی تعمیرِ نو میں اس کا مجوزہ کردار بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف اسرائیلی فوجی قبضے کو دوام بخشنے کا باعث بن رہے ہیں بلکہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی نفی کرنے کے ساتھ ساتھ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے ارتکاب کو سفارتی تحفظ بھی فراہم کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس فریم ورک کے تحت پیش کردہ منصوبے فلسطینیوں کی مادی، ثقافتی، سماجی اور اقتصادی بیخ کنی کو مزید گہرا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ منصوبے غزہ کی پٹی کو مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس سے الگ کر کے دیکھتے ہیں، جو ایک ایسی استعماری سوچ کی عکاسی ہے جس میں فلسطینی سرزمین کی وحدت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
ان تمام تنظیموں نے اجتماعی طور پر ورلڈ بینک کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مجلس السلام سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے اور تعمیرِ نو کے فنڈ (GRAD) کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔ اس کے ساتھ ہی تعمیرِ نو کے لیے مسلط کردہ کسی بھی غیر قانونی فریم ورک کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے۔
بیان میں اس ضرورت پر بھی زور دیا گیا کہ تعمیرِ نو کے ایسے ڈھانچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے جن کی قیادت خود فلسطینی کر رہے ہوں۔ عالمی بینک کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کے ساتھ تعاون کرے اور ایسے ڈھانچوں کا حصہ بننے سے گریز کرے جو کثیر جہتی عالمی نظام کو کمزور کرتے ہیں۔ مزید برآں، انسانی حقوق کے محافظوں کو نشانہ بنانے والی کسی بھی انتقامی کارروائی کی سخت مذمت کی جائے۔
