Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

غزہ سے اسرائیلی انخلاء تک اسلحے سے متعلق کسی انتظام پر عمل درآمد ممکن نہیں: حماس

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے مذاکراتی وفد کے رکن غازی حمد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحریک قابض اسرائیل کے غزہ کی پٹی سے انخلا سے پہلے ہتھیاروں کو محدود کرنے یا انہیں ذخیرہ کرنے سے متعلق کسی بھی قدم پر عمل درآمد نہیں کرے گی اور اس بات پر زور دیا کہ تحریک کی طرف سے کسی بھی ذمہ داری کو پورا کرنا اس بات سے مشروط ہے کہ قابض اپنے معاہدے میں دیے گئے فرائض کو پورا کرے۔

غازی حمد نے الجزيرہ چینل کو دیے گئے اخباری بیانات میں واضح کیا کہ قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات انتہائی مشکل اور سخت تھے اور تحریک کے وفد نے بہترین ممکنہ حل تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کی اور ساتھ ہی حماس کے اپنے قومی مقاصد اور فلسطینی عوام کے حقوق پر ڈٹے رہنے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہتھیاروں کا معاملہ دوسرے اہم امور سے جڑا ہوا ہے جن میں سب سے اہم پٹی سے قابض کا انخلا اور تعمیر نو ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ قابض اسرائیل ہتھیاروں کو محدود کرنے یا انہیں ذخیرہ کرنے کے معاملے میں فریق نہیں ہوگا اور فلسطینی قومی کمیٹی ہی اس ذمہ داری کو سنبھالے گی۔

غازی حمد نے مصر، قطر اور ترکیہ کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور معاہدے تک پہنچنے میں ان کے کردار پر تینوں ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

حماس کے ایک ذمہ دار ذریعے نے انکشاف کیا کہ معاہدے میں یہ طے پایا ہے کہ عبوری دور کے دوران جن ملازمین کی خدمات ختم ہوں گی یا جنہیں ریٹائرڈ کیا جائے گا انہیں فلسطینی قانون کے مطابق ان کے تمام حقوق دیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ انتظامی کمیٹی پٹی میں مالی اور انتظامی حالات کا جامع آڈٹ کرنے کی ذمہ داری سنبھالے گی اور بین الاقوامی تعاون سے عوامی وسائل اور اثاثوں کے تحفظ اور انہیں واپس لینے کے لیے کام کرے گی،ساتھ ہی سپلائرز اور کنٹریکٹرز کے جائز واجبات کا جائزہ لے گی جو چالیس ملین ڈالر سے تجاوز نہیں کریں گے اور ان اقدامات پر کمیٹی کی طے کردہ ترجیحات کے مطابق تین برسوں کے دوران تدریجی طور پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ بدھ کو مصر کے شہر العلمین الجدیدہ میں ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس میں حماس کے مذاکراتی وفد نے جنرل انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ حسن رشاد کی سربراہی میں مصری حکام سے ملاقات کی تھی اور اس میں قطر اور ترکیہ کے ثالثوں نے بھی شرکت کی تھی تاکہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی طرف بڑھنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

یہ ملاقاتیں اس سلسلے کی کڑی ہیں جو گذشتہ جون کی چھ تاریخ کو قاہرہ میں شروع ہوئی تھیں جس میں فلسطینی دھڑوں اور مصر قطر اور ترکیہ کے ثالثوں نے شرکت کی تھی تاکہ اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے اور متنازعہ امور پر بات چیت کی جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan