غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں سول ڈیفنس نے اتوار کے روز اسرائیل کی جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران تباہ کیے گئے گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے دبے لاپتہ شہداء کی باقیات کو نکالنے کے کام کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک انسانی پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے جس کا مقصد لاپتہ افراد کی باقیات کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنا اور انہیں وقار کے ساتھ سپردِ خاک کرنا ہے۔ یہ اقدام ان ہزاروں خاندانوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے ہے جو برسوں سے اپنے پیاروں کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔
غزہ میں پریس کانفرنس کے دوران جاری بیان میں سول ڈیفنس نے بتایا کہ ان کی ٹیموں نے انتہائی محدود وسائل کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے، جو تباہی کے حجم اور زمینی ضروریات کے مطابق ناکافی ہیں۔ اس وقت ان کے پاس صرف ایک کھدائی کرنے والی مشین ( excavator)، ایک بلڈوزر اور ایک ٹرک موجود ہے، جو بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC) کے تعاون سے فراہم کیے گئے ہیں، جس کے کردار کو سول ڈیفنس نے سراہا۔
موجودہ مرحلہ 800 گھنٹے کے کام پر محیط ہے جو وسطی، غزہ اور شمالی گورنریوں میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کا ہدف 147 تباہ شدہ گھر ہیں جن کے ملبے تلے 1,072 شہداء کےجسد خاکی ہونے کا خدشہ ہے۔
بیان میں نشاندہی کی گئی کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں چیلنجز کے باوجود جزوی نتائج حاصل ہوئے تھے۔ ٹیموں نے 500 گھنٹے سے زائد کام کر کے 54 گھروں اور عمارتوں سے 559 لاپتہ افراد میں سے 333 شہداء کی باقیات نکالی ہیں، جبکہ 226 لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، جو کام کی پیچیدگی اور تباہی کے حجم کی عکاسی کرتی ہے۔
ابو شریعہ اور الحساینہ خاندانوں کے رہائشی اسکوائر کے مقام پر جہاں شدید بمباری ہوئی تھی، سول ڈیفنس نے وضاحت کی کہ اس حملے میں 308 افراد شہید ہوئے، جن میں 44 بچے اور 37 خواتین شامل ہیں اور ان کی باقیات اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ان خاندانوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے انسانی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے جو برسوں سے اپنے پیاروں کی باقیات کو مذہبی رسومات کے ساتھ دفن کرنے کے منتظر ہیں۔ سول ڈیفنس نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کا یہ معاملہ وسائل کی کمی کی وجہ سے معطل نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مشینری ملبے کے ہزاروں ٹن ڈھیر اور سینکڑوں مقامات پر کام کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
سول ڈیفنس نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی حمایت کا دائرہ کار وسیع کریں اور ان نکالنے کے کاموں میں فعال کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ بھاری مشینری اور ضروری تکنیکی آلات غزہ میں داخل کرنے کی اجازت دے تاکہ ٹیمیں تباہی کے مقامات تک پہنچ کر اپنا انسانی مشن مکمل کر سکیں۔
ادارے نے اعادہ کیا کہ وہ وسائل کی کمی کے باوجود اپنا انسانی فرض ادا کرتا رہے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ شہداء کی باقیات کو نکالنا اور انہیں باعزت دفن کرنا ایک فوری انسانی فریضہ ہے جس کے لیے فوری عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔
