Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ انخلا کے نام پر نئے حقائق مسلط کرنے کی اسرائیلی حکمتِ عملی

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے حصول کے لیے بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت کی مسلسل خبروں کے باوجود اسرائیلی کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال پر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ محض مذاکراتی عمل یا اس کے نتائج کا ردعمل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک طویل مدتی اسرائیلی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد زمینی اور سیاسی حقائق کو زبردستی مسلط کرنا ہے۔

ایک مستقل حکمت عملی

سیاسی تجزیہ کار محمد القیق کا کہنا ہے کہ قابض فوج کی طرف سے غزہ پٹی میں جو کچھ نافذ کیا جا رہا ہے وہ ایک مستقل اسٹریٹجک ایجنڈے کا حصہ ہے جو مذاکرات کی پیش رفت یا تعطل سے متاثر نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ قابض فوج مذاکراتی راستے کے متوازی اپنی عسکری اور سیاسی تیاریوں کو بھی عملی جامہ پہنا رہی ہے۔

القیق نے ہمارے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایجنڈا تین اہم محوروں پر مبنی ہے۔

پہلا محور: عسکری کنٹرول کے دائرے کو وسعت دے کر غزہ پٹی کو تین حصوں میں تقسیم کرنا اور ایک نیا جغرافیائی رخ دینا تاکہ پٹی کے اندر تقسیم کو پختہ کیا جا سکے۔

دوسرا محور: غیر منظم گروہوں کے اثر و رسوخ کو بڑھا کر اندرونی انتشار کی حالت کو گہرا کرنا اور سیکیورٹی صورتحال پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے نئے ذرائع تلاش کرنا۔

تیسرا محور: فلسطینی سیاسی فکر کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور کسی بھی ایسے فلسطینی جسم کے قیام کو روکنا جو غزہ پٹی اور مغربی کنارے کے درمیان جغرافیائی رابطے کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، تاکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے کسی بھی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی فلسطینی دھڑوں کے موقف یا ان کے اجلاسوں کے نتائج سے منسلک نہیں ہے، بلکہ یہ ایک واضح اسرائیلی پلان پر مبنی ہے جس پر مسلسل عمل درآمد کیا جا رہا ہے، ایسے وقت میں جب اسرائیل اپنی کارروائیوں کو جاری رکھنے کا جواز فراہم کرنے کے لیے حماس تحریک کو مذاکرات کے تعطل کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

استعماری نظریات

دوسری طرف، مصنف اور سیاسی تجزیہ کار محمد مصطفى شاہین کا ماننا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت کے دعووں کے ساتھ ساتھ جارحیت کا یہ سلسلہ محض اتفاق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک استعماری نظریے کی عکاسی کرتا ہے جو کسی بھی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے سیاسی حقیقت کو نئے سرے سے تشکیل دینے اور طاقت کے نئے توازن مسلط کرنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال کرتا ہے۔

شاہین نے ایک پریس بیان میں واضح کیا کہ قابض فوج یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ جنگ کا کوئی بھی خاتمہ اسے سیاسی اور قانونی ذمہ داریوں میں جکڑ دے گا، اس لیے وہ پرامن معاہدے سے پہلے اپنے میدانی فوائد کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہتی ہے اور ایسے حقائق پیدا کرنا چاہتی ہے جنہیں بعد میں تبدیل کرنا مشکل ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی “مذاکراتی جبر” کے اس طریقے سے مطابقت رکھتی ہے جہاں فوجی کارروائیوں کو فلسطینی فریق پر دباؤ ڈالنے اور ایسے سمجھوتے حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو صرف مذاکرات کے ذریعے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ عام شہریوں، پناہ گزین کیمپوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا، نیز ناکہ بندی اور بھوک کا سلسلہ جاری رکھنا، غزہ پٹی میں سیاسی اور انسانی ماحول کو اس طرح دوبارہ ڈھالنے کی کوششوں کا حصہ ہے جو اسرائیلی استعماری منصوبے کے مفاد میں ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابض فوج مذاکرات کو جنگ کے خاتمے کے راستے کے طور پر نہیں بلکہ فوجی کارروائیوں کے انتظام کے لیے ایک پردے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تناظر میں، شاہین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ شہریوں کو نشانہ بنانا، بھوک مسلط کرنا، انسانی امداد کی فراہمی کو روکنا، اور جبری نقل مکانی جنیوا کنونشنز اور روم اساتیوٹ کے تحت قانونی ذمہ داریوں کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کے دوران جارحیت کا یہ تصادم مذاکرات میں حسنِ نیت کے اصول اور بین الاقوامی قانون کے ان قواعد کے منافی ہے جو سیاسی نتائج مسلط کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی ممانعت کرتے ہیں۔

دونوں تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اسرائیل علاقائی اور اندرونی حالات، بشمول سیاسی اور انتخابی حساب کتاب، کا فائدہ اٹھا رہا ہے تاکہ اپنی فوجی کارروائیوں کو وسعت دے سکے اور ایسے مزید میدانی حقائق مسلط کر سکے جو جغرافیائی اور سیاسی تقسیم کو گہرا کریں، اور فلسطینیوں پر مذاکرات کی لاگت کو بڑھا دیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے پہلے اسے اضافی دباؤ کے کارڈز حاصل ہوں۔

شاہین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی قابلِ عمل تصفیہ ایک جامع اور مستقل فائر بندی، غزہ پٹی سے قابض فوج کے انخلا، ناکہ بندی کے خاتمے، انسانی امداد کی بلا تعطل ترسیل کی ضمانت، اور تعمیر نو کے آغاز پر مبنی ہونا چاہیے، کیونکہ یہ وہ حقوق ہیں جن کی ضمانت بین الاقوامی قانون دیتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ جو ان اصولوں پر مبنی نہ ہو، ناکامی کا شکار رہے گا اور کبھی منصفانہ یا پائیدار امن قائم نہیں کر پائے گا۔

دوسری طرف، میدانِ جنگ میں قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں اپنی فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ فلسطینیوں کی طرف سے یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ اسرائیل زمینی سطح پر نئے حقائق مسلط کرنے کے لیے مذاکراتی راستے کا استحصال کر رہا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، فائر بندی کے نفاذ کے بعد سے قابض فوج کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 1,230 سے زائد فلسطینی شہید اور 4 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan