غرب اردن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکزِ اطلاعاتِ فلسطین ’معطی‘ نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران غرب اردن کے مختلف علاقوں میں مزاحمت کی 10 کارروائیوں کو ریکارڈ کیا ہے، جن کے نتیجے میں قابض صہیونی فوج اور یہودی آباد کاروں کے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مرکز نے اپنی ایک رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ مزاحمتی کارروائیاں یہودی آباد کاروں کی یلغار کو ناکام بنانے کے تین واقعات اور سات ایسی جھڑپوں پر مشتمل تھیں جن کے دوران متعدد فلسطینی قصبوں اور کیمپوں میں پتھراؤ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق رام اللہ گورنری میں دیر جریر اور مرج سیع قصبوں میں یہودی آباد کاروں کو روکا گیا اور ان کا مقابلہ کیا گیا، جبکہ کفر مالک اور المغیر میں جھڑپوں کے دوران پتھراؤ کے واقعات پیش آئے۔ اسی طرح کی جھڑپیں مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیہ کیمپ اور طولکرم شہر کے مشرقی محلے میں بھی ہوئیں، جبکہ الخلیل گورنری کے علاقے ام الخیر میں بھی یہودی آباد کاروں کا مقابلہ کیا گیا اور انہیں پسپا ہونے پر مجبور کیا گیا۔
مرکز نے نشاندہی کی کہ اس مدت کے دوران سب سے نمایاں کارروائی رام اللہ شہر کے مشرق میں واقع گاؤں دیر جریر میں ہوئی، جہاں فلسطینی نوجوانوں نے یہودی آباد کاروں کے حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں دو یہودی آباد کار زخمی ہو گئے۔
