Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

عقوبت خانوں میں خارش کی بیماری کا پھیلاؤ، قیدیوں کی صحت پر سنگین خدشات

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسیران کے امور سے متعلق اداروں نے بدھ کی شام عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس کو ایک ہنگامی اپیل کی ہے، جس میں قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں قید فلسطینیوں کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ان اداروں نے ایک پریس بیان میں تصدیق کی ہے کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں اور حراستی مراکز میں خارش کی بیماری بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے۔ یہ سب کچھ اسیران کے خلاف جیل انتظامیہ کی جانب سے نافذ کردہ پالیسیوں اور اقدامات کے تسلسل کا نتیجہ ہے، جس نے اس صحت کے بحران کو شدید کر دیا ہے اور اسے ہزاروں قیدیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا دیا ہے۔

بیان میں نشاندہی کی گئی کہ انہوں نے اپریل سنہ 2025ء میں اسیران میں بیماری کے پھیلاؤ کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت سے رابطہ کیا تھا، لیکن گذشتہ مدت کے دوران دستاویزی شہادتوں اور اعداد و شمار سے صحت کی صورتحال میں مزید بگاڑ کا انکشاف ہوا ہے۔ اس دوران بیماری کا پھیلاؤ جاری ہے اور اسے روکنے کے لیے موثر اقدامات کا فقدان ہے، نیز متاثرین کو ضروری علاج بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔

اداروں نے واضح کیا کہ رہا ہونے والے اسیران کی گواہیوں اور وکلاء کے بیانات سے انکشاف ہوا ہے کہ متاثرین شدید خارش، جلد کی سوزش، مسلسل درد اور نیند کی کمی کا شکار ہیں، اس کے علاوہ بیماری کے تسلسل اور مناسب طبی دیکھ بھال کی عدم دستیابی کے باعث انہیں نفسیاتی اور جسمانی اثرات کا سامنا ہے۔

ان اداروں نے اس بات پر خبردار کیا ہے کہ قید بچوں کو بھی انہی حالات کا سامنا ہے، جس سے ان کی صحت کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ بیماری کا پھیلاؤ براہ راست قید کے ظالمانہ حالات سے منسلک ہے، جس میں وارڈز اور سیلز میں شدید گنجائش سے زیادہ بھیڑ، صفائی کی بنیادی اشیاء سے محرومی، نہانے پر پابندی، صحت اور ماحولیاتی حالات کا بگاڑ، متاثرین کو علیحدہ نہ کرنا اور اس کے علاوہ انہیں منظم طریقے سے علاج سے محروم رکھنا شامل ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ان حالات کا تسلسل بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ جان بوجھ کر کی جانے والی غفلت کی خطرناک سطح کی عکاسی کرتا ہے جو اسیران کی زندگی، صحت اور انسانی وقار کے لیے خطرہ ہے۔

اسیران کے اداروں نے عالمی ادارہ صحت سے مطالبہ کیا کہ وہ عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھائے، جن میں فلسطینی قیدیوں میں خارش اور متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا عوامی سطح پر اعتراف کرنا، اور آزاد بین الاقوامی طبی ٹیموں کو صحت کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے عقوبت خانوں اور حراستی مراکز میں داخل ہونے کی اجازت دینا شامل ہے۔

انہوں نے قابض حکام پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا تاکہ متاثرین کو فوری علاج فراہم کیا جائے، صفائی کی بنیادی اشیاء اور صاف کپڑے فراہم کیے جائیں، عقوبت خانوں کے اندر صحت عامہ کے حالات کو بہتر بنایا جائے، بھیڑ کو کم کرنے اور متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، اور بچوں اور زیادہ خطرے والے طبقات کو خصوصی تحفظ اور طبی دیکھ بھال فراہم کی جائے۔

اداروں نے اس بات پر زور دیا کہ خارش کی بیماری کا مسلسل پھیلاؤ اور اسیران کو علاج اور طبی دیکھ بھال سے محروم رکھنا ایک اہم انسانی اور صحت کا مسئلہ ہے جس کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسیران کی زندگی اور حفاظت کی مکمل ذمہ داری قابض حکام پر عائد کی اور عالمی برادری اور متعلقہ اقوام متحدہ کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کریں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan