Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

عالمی ادارہ صحت کا انتباہ: غزہ میں بیماریوں کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) عالمی ادارہ صحت کی مشرقی بحیرہ روم کے لیے علاقائی ڈائریکٹر حنان بلخی نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں طبی امداد کی فراہمی پر قابض اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں صحت کے شعبے میں ردعمل کی صلاحیت کو مفلوج کر رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال مہلک امراض کے پھیلاؤ کا راستہ کھول رہی ہے جس سے نہ صرف غزہ بلکہ پورا خطہ خطرے کی زد میں آ سکتا ہے۔

حنان بلخی نے اناطولیہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی صورتحال اب محض فوجی حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب طبی خدمات تک رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں جس سے فلسطینیوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طبی دیکھ بھال تک رسائی کو سنگین خطرات لاحق ہیں کیونکہ پہلے سے ہی انتہائی دباؤ کا شکار نظام صحت تیزی سے ختم ہوتے ہوئے وسائل اور تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زندگی بچانے والا طبی سامان دستیاب ہے لیکن اسرائیلی عائد پابندیوں کی وجہ سے وہ غزہ نہیں پہنچ پا رہا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ادویات اور طبی سامان سے لدے ٹرک انتظار کر رہے ہیں جبکہ مریض علاج سے محروم ہیں یا انہیں انتہائی محدود طبی سہولیات میسر ہیں کیونکہ زیادہ تر گزرگاہیں بند ہیں اور امداد کے بہاؤ کو مقید کر دیا گیا ہے۔

توانائی کے حوالے سے حنان بلخی نے واضح کیا کہ ایندھن کی قلت نے ہسپتالوں کو باری باری کام کرنے کے نظام پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اس صورتحال کا تسلسل ہسپتالوں کی مکمل بندش کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے بقول ایندھن کے بغیر ہسپتال کام کرنا بند کر دیں گے اور یہ خطرہ صرف طبی مراکز تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام صحت کے لیے تباہ کن ہوگا۔

انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ حالیہ کشیدگی نے جنگ بندی یا سیز فائر کے اس معاہدے کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے یہ توقع تھی کہ امداد کی فراہمی اور مریضوں کے طبی انخلاء میں آسانی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ طبی انخلاء اس سطح پر نہیں ہو رہا جو انسانی جانیں بچانے کے لیے ضروری ہے جس کی وجہ سے تشویشناک حالت میں مبتلا مریض علاج کے حق سے محروم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک تقریباً 11 ہزار 245 مریضوں کو نکالا گیا جن میں 5 ہزار 850 بچے اور ان کے ہمراہ 13 ہزار سے زائد تیماردار شامل تھے، تاہم سیز فائر کے آغاز سے انخلاء کی رفتار میں شدید کمی آئی ہے اور اب تک صرف 388 مریض ہی نکالے جا سکے ہیں جن میں محض 47 بچے شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رفح اور کرم ابو سالم گزرگاہوں سے طبی انخلاء 28 فروری سنہ 2026ء سے معطل ہے جو انسانی بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے، جبکہ تخمینوں کے مطابق تقریباً 22 ہزار مریضوں اور زخمیوں کو علاج کے لیے فوری طور پر غزہ کی پٹی سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔

حنان بلخی نے خبردار کیا کہ بنیادی ڈھانچے کی مسلسل تباہی، نکاسی آب کی خراب صورتحال اور صاف پانی کی قلت نے امراض کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے جو کہ محکمہ صحت کے حکام کے لیے ایک بھیانک خواب کی مانند ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمزور سیز فائر، نقل و حرکت پر پابندیاں، سامان کی آمد اور مریضوں کے اخراج پر روک ٹوک، آبادی کا بے پناہ دباؤ اور جبری نقل مکانی وہ عوامل ہیں جو غزہ کی پٹی میں صحت کے بحران کو سنگین تر بنانے اور انفیکشن کے پھیلاؤ سمیت انسانی تکالیف میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan