Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

طبی امداد تک رسائی میں رکاوٹ، فلسطینی حاملہ خاتون متاثر

نابلس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی نابلس کے قصبہ قريوت سے تعلق رکھنے والی ایک حاملہ فلسطینی خاتون کا بچہ پیر کے روز اس وقت ضائع ہو گیا جب قابض اسرائیل کی فوج نے شہر کے جنوب میں واقع عورتا فوجی چیک پوسٹ پر اسے ہسپتال جانے سے روک دیا۔

ایک طبی کارکن اور ایمبولینس کے افسر بشار القريوتی جو اس خاتون کے ساتھ موجود تھے نے واضح کیا کہ قابض فوج نے چیک پوسٹ کے دروازے بند کرنے کے بعد ایمبولینس گاڑی کو گذرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا اور عملے کو حراست میں لے لیا، اس کے علاوہ حمل کے چھٹے مہینے میں موجود اس خاتون کو شدید خون بہنے کی تکلیف کے باوجود تلاشی کے عمل سے بھی گزارا۔

بشار القريوتی نے مزید بتایا کہ قابض فوجیوں نے ایمبولینس کے عملے کو گاڑی کا انجن بند کرنے پر مجبور کر دیا، جس کی وجہ سے اس کے اندر موجود معاون طبی آلات بند ہو گئے ، گاڑی کو گزرنے کی اجازت ملنے سے پہلے یہ حراست آدھے گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔

بشار القريوتی نے اس بات کی تصدیق کی کہ خاتون ہسپتال تو پہنچ گئیں، لیکن وہ اپنے بچے سے محروم ہو چکی تھیں، جبکہ طبی عملے نے ان کی جان بچانے میں کامیابی حاصل کر لی۔

یہ دلخراش واقعہ نابلس پر بڑے پیمانے پر لگائی جانے والی سخت فوجی پابندیوں کے سائے میں پیش آیا ہے، جو شہر کے جنوب مغرب میں واقع قصبہ تل میں رونما ہونے والے ان واقعات کے بعد پیش آئیں جن کے نتیجے میں چار نوجوان شہید ہو گئے اور ایک زخمی ہو گیا، جبکہ ایک نوجوان نے اپنے دفاع میں ان میں سے ایک کا ہتھیار چھین کر اس کی طرف فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو یہودی آباد کار مارے گئے تھے۔

اس سے قبل تقریباً ایک ہفتہ قبل رام الله کے شمال میں واقع قصبہ سنجل سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ نوجوان خاتون سجود فقهاء (جو دو بچوں کی ماں تھیں) دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئی تھیں، کیونکہ قابض فوج نے داخلی راستوں پر لگے لوہے کے دروازوں کو بند کرنے کے بعد ایمبولینس گاڑی کو قصبے میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan