ترتیب: علی واحدی
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنان پر صیہونی حکومت کے حملے نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، بلکہ اب جس طرح لبنان کے جنوبی علاقوں میں نسل کشی اور حتی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کی حزب اللہ اور مقاومت کے بارے میں کیا منصوبہ بندی ہے۔ اسی تناظر میں لبنان کی وزیر تعلیم ریما کرامی نے صیہونی جارحیت کے باعث لبنان کی صورت حال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ غاصب اسرائیل اب تعلیمی اداروں کو بھی جارحیت کا نشانہ بنا رہی ہے۔ لبنان کی وزیر تعلیم ریما کرامی نے کہا ہے کہ ہم لبنان میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے سلسلے میں ایک افسوسناک ہفتہ سے گزر رہے ہیں، کیونکہ اسرائیلی دشمن جارحیت میں بہت آگے جا چکا ہے اور اس نے تین اسکولوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
ریما کرامی نے اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے دھماکہ خیز مواد کے استعمال اور خیام میں ایک پرائمری اسکول اور ایک پبلک سیکنڈری اسکول کے ساتھ ساتھ بنت جبیل میں ایک مڈل اسکول کی تباہی کا حوالہ دیا اور اعلان کیا کہ صیہونی فوج نے ان مراکز کے ساز و سامان کو لوٹ لیا اور اسے دھماکے سے اڑا دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اسکول راکھ میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ ریما کرامی نے زور دے کر کہا کہ یہ تمام کارروائیاں دنیا کی نظروں کے سامنے کی جا رہی ہیں، جسے اقوام متحدہ کے چارٹر میں سب سے محفوظ ادارہ قرار دیا گیا ہے کہ جہاں لوگ بحرانوں، جنگوں، سیلابوں اور دیگر آفات کے دوران پناہ لیتے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب جارحیت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل و مشکلات کے اظہار کے لیے صرف مذمتی بیان کافی نہيں ہے اور ہم عالمی ضمیر سے اپیل کرتے ہیں اور بڑی طاقتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تباہی و بربادی کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں اور تعلیمی اداروں کو تنازعات اور جنگوں میں غیر جانبدار رکھیں۔ واضح رہے کہ صیہونی حکومت نے دو مارچ سے لبنان پر جارحانہ حملے شروع کئے ہیں، جس میں متعدد لبنانی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہيں جبکہ دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور ملک کے جنوب کے کچھ حصے تاحال صیہونی حکومت کے قبضے میں ہیں۔
ادھر لبنان کے رکن پارلیمنٹ نے مغرب نواز لبنانی حکومت اور صیہونی حکومت کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے صیہونی حکومت کی فوج کے مکمل اور غیر مشروط انخلاء کی ضرورت پر زور دیا۔ “ترقی و آزادی” دھڑے کے رکن “علی خریس” نے کہا ہے کہ “محفوظ معاشرے کی تعمیر کا انحصار مناسب تعلیم پر ہے، جو کہ ملک کی تعمیر اور تحفظ کے لیے ضروری ہے۔” لبنانی رکن پارلیمنٹ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے صیہونی حکومت کی بزدلی اور فریب کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ دشمن ہمیشہ کی طرح فریب اور جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے۔