Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

شہید کمانڈر البیاری کی خدمات کو القسام بریگیڈز کا خراجِ تحسین

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایک ویڈیو کلپ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے شمالی غزہ کی پٹی میں شہید فوزی أبو القرع بٹالین کے کمانڈر ابراہیم أحمد البياري کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، جو اکتوبر سنہ 2023ء کے آخر میں شہید ہو گئے تھے۔

اس ویڈیو کلپ میں البياري کے عسکری سفر کے ایک حصے کو دستاویزی شکل دی گئی ہے، جس میں طوفان الاقصیٰ حملے کی تیاری کے لیے ان کی نگرانی میں ہونے والی شدید ٹریننگز کے مناظر دکھائے گئے ہیں، اس کے علاوہ سات اکتوبر کی صبح القسام کے مجاہدین کے ايريز عسکری مرکز پر دھاوا بولنے کی فوٹیجز بھی شامل ہیں۔

ویڈیو میں البياري کو ٹریننگ کے دوران اپنے مجاہدین کو ہدایت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ اپنی ٹریننگ کو عملی اور میدانی شکل دیں۔ انہوں نے اللہ کے لیے نیتوں کے اخلاص کی اہمیت پر زور دیا اور قابض فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران نشانے کی درستگی پر زور دیا۔

اس کے علاوہ ٹریننگز میں ایک حقیقی حملے کی ریہرسل بھی شامل تھی جو دشمن پر ٹوٹ پڑنے، گاڑیوں اور کاک پٹ پر چڑھنے، اور دروازوں اور ٹاورز سے نمٹنے پر مبنی تھی، یہ ایسے حربے تھے جو بعد میں سات اکتوبر کے حملے کے دوران القسام کے مجاہدین کی طرف سے انجام دیے جانے والے دھاوے اور جھڑپ کی کارروائیوں میں ظاہر ہوئے۔

الجزیرہ ڈاٹ نیٹ کے لیے باخبر ذرائع نے البياري کے عسکری سفر کی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے شمالی غزہ کی پٹی میں القسام کی ایلیٹ بٹالین کی بنیاد رکھی، جو پہلی بار سنہ 2014ء میں سامنے آئی تھی، انہوں نے سنہ 2015ء میں اسرائیل کے ايريز گزرگاہ اور فوجی مرکز کے ساتھ متصل فلسطینی عسکری مرکز کی بنیاد رکھی، تاکہ یہ مقبوضہ علاقوں کے سب سے قریب ترین نقطہ بن سکے۔

البياري نے اس عسکری مرکز کے آخری سرے پر المرصد الفاتح بھی قائم کی، جسے قابض فوج نے سنہ 2022ء میں تباہ کر دیا۔انہوں نے صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر اسے دوبارہ تعمیر کر لیا۔ یہ آبزرویٹری ان مانیٹرنگ سائٹس میں سے ایک ہے جو القسام بریگیڈز نے سکیورٹی باڑ اور یہودی بستیوں کے سامنے فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور قلعوں کا مطالعہ کرنے کے لیے قائم کی تھی، یہ ایسی معلومات تھیں جنہوں نے ذرائع کے مطابق بستیوں کی طرف عبور کرنے کے آپریشنز کے لیے موزوں زمین فراہم کی۔

ذرائع نے اشارہ کیا کہ البياری نے سالوں تک ایلیٹ کمپنی کو ٹریننگ دینے اور مسلح کرنے اور اس کے لیے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے، عسکری مراکز پر دھاوا بولنے کی نقالی کرنے والی دجنوں مشقوں کی براہ راست نگرانی کرنے کے ذریعے طوفان الاقصیٰ کے پیشگی انتظام میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔

البياري کا نام ايريز مرکز پر حملے کے پلان کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے، کیونکہ انہوں نے خود اس آپریشن کی نگرانی کی جو سات اکتوبر کی صبح انجام دیا گیا، اس دوران القسام کے مجاہدین سکیورٹی باڑ اور دیوار میں ایک شگاف ڈالنے میں کامیاب ہو گئے، جہاں سے درجنوں مجاہدین نے عبور کیا اور اس مرکز میں موجود قابض اسرائیل کے شاباک کے فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کی۔

ویڈیو میں البياری کا ظہور القسام کے ان کئی کمانڈروں کے ساتھ بھی دستاویزی شکل میں دکھایا گیا جو بعد میں شہید ہو گئے، جن میں أحمد الغندور، أحمد الجعبری، مروان عيسى اور أيمن نوفل شامل ہیں، اس کے علاوہ محمد السنوار، رأفت سلمان، محمد عودہ اور أبو عبيدہ کے نام سے معروف حذيفةہالكحلوت بھی شامل ہیں۔

اس ویڈیو میں شمالی غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی فوجیوں کے ٹھکانوں پر گھات لگا کر حملے کرنے، گاڑیوں کو نشانہ بنانے اور چھاپے مارنے کی کارروائیوں کے مناظر بھی شامل تھے، اس کے علاوہ قابض فوج کے ساتھ پوائنٹ زیرو پر براہ راست ٹکرانے کی فوٹیجز بھی دکھائی گئیں۔

قابض اسرائیلی فوج نے البياري کی شہادت کے دن ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں ان پر شمالی غزہ کی پٹی میں جنگی کارروائیوں کا انتظام کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، اور بیس سال کے دوران یہودی بستیوں کی طرف راکٹ فائر کرنے کی ہدایت کرنے کی ذمہ داری ان پر ڈالی تھی۔

فوج نے ان پر سنہ 2004ء میں اشدود بندرگاہ پر دھاوا بولنے والے حملہ آوروں کو بھیجنے میں ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا، جس کے نتیجے میں تیرہ اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے، اس طرح البياري کا عسکری سفر ایک ایسے مقام پر ختم ہوا جس نے انہیں قابض فوج کے ہاں سب سے زیادہ مطلوب افراد میں سے ایک بنا دیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan