Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

سال 2025 میں غربِ اردن میں درجنوں فلسطینی بچے شہید، متعدد کی لاشیں اسرائیلی قبضے میں

غرب اردن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم ’بتسیلم‘ نے دستاویز کیا ہے کہ سنہ 2025ء کے دوران غرب اردن میں قابض اسرائیلی افواج کی گولیوں اور فضائی حملوں کے نتیجے میں 54 فلسطینی بچے اور نوجوان شہید ہوئے۔

تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ زیادہ تر بچے ایسے حالات میں شہید ہوئے جہاں وہ کوئی براہ راست خطرہ نہیں تھے، جبکہ قابض حکام آج تک ان میں سے کئی کی لاشیں قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ قابض فوج نے سنہ 2025ء کے دوران غرب اردن میں 54 فلسطینی بچوں اور نوجوانوں کو قتل کیا، جن میں سے 21 بچے ایسے تھے جو کسی بھی جھڑپ میں حصہ نہیں لے رہے تھے۔ 13 دیگر بچوں کو قابض فوج یا راستوں پر پتھراؤ کے بہانے شہید کیا گیا، جبکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کسی قسم کے جانی نقصان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق 47 بچے اور نوجوان براہ راست گولیوں سے شہید ہوئے، جبکہ سات دیگر قابض افواج کے فضائی حملوں کے نتیجے میں شہید ہوئے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ 11 بچے اور نوجوان گھات لگا کر قابض افواج کی جانب سے چلائی گئی گولیوں سے مارے گئے، جبکہ نو نابالغ، جن میں دو لڑکیاں بھی شامل ہیں، ایسی فلسطینی بستیوں میں داخلے کے دوران شہید ہوئے جہاں کوئی گرفتاری یا جھڑپ نہیں ہو رہی تھی۔

رپورٹ نے اس بات پر توجہ مبذول کرائی کہ کچھ بچے اپنے گھروں کے اندر یا قریب شہید ہوئے، جبکہ دیگر اس وقت شہید ہوئے جب وہ وہاں سے گزر رہے تھے یا اپنے کام کی جگہوں پر موجود تھے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ چار نابالغ گرفتاریوں کے دوران شہید ہوئے، جبکہ سات دیگر فضائی حملوں میں شہید ہوئے، جن میں سے چار اپنے گھروں کے صحن میں یا سڑک پر تھے۔ رپورٹ کے مطابق دو دیگر نوجوانوں کو قابض فوج کے خلاف حملے کرنے کے شبہے میں شہید کیا گیا۔

’بتسیلم‘ نے تصدیق کی کہ قابض فوج نے تقریباً ایک چوتھائی واقعات یعنی 13 بچوں اور نوجوانوں کی طبی امداد تک پہنچنے میں طبی عملے یا شہریوں کو روکا یا منع کیا۔

تنظیم نے مزید کہا کہ کم از کم نو واقعات میں فوجیوں نے ہوا میں یا طبی امداد کرنے والوں اور اہل خانہ کی طرف گولیاں چلائیں تاکہ انہیں زخمیوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

کچھ معاملات میں قابض فوج نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے سے بھی روکا ۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ان کے شہید ہونے سے پہلے انہیں کوئی طبی امداد ملی تھی یا نہیں۔

تنظیم نے تصدیق کی کہ قابض حکام 29 جون سنہ 2026ء تک سنہ 2025ء میں شہید ہونے والے 54 میں سے 18 بچوں اور نوجوانوں کی لاشیں قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔

تنظیم نے اس پالیسی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خاندانوں کو اپنے پیاروں کو الوداع کہنے، انہیں دفنانے اور ان کے لیے سوگ منانے کے حق سے محروم کرتی ہے، جس سے ان کی تکالیف میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan