غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی حکام نے غزہ کی پٹی سے 13 فلسطینی اسیران کو رہا کیا، جو ریڈ کراس کی ٹیموں کے ذریعے شہداء الاقصیٰ ہسپتال پہنچ گئے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ رہائی کا عمل کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے انجام پایا، جس کے بعد اسیران کو غزہ کی پٹی کے وسط میں دیر البلح کے مقام پر واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں وصول کیا گیا اور ان کا ضروری طبی معائنہ کیا گیا۔
رہا ہونے والے اسیران کی فہرست میں حاتم عید الخرطی (عمر 56 سال)، طارق جلال مقاط (عمر 60 سال)، عادل مصطفی شعبان (عمر 63 سال)، ماجد صدقی الاستاذ (عمر 58 سال)، جمال شکری ابو شنب (عمر 68 سال)، ربیع عبداللہ علوان (عمر 42 سال)، ناصر غالب الحاج احمد (عمر 35 سال)، اس کے علاوہ محمد عبداللطیف زغرہ (عمر 62 سال)، رمزی محمد الحو (عمر 45 سال)، ہائل منذر الحلولی (عمر 26 سال)، عبدالحافظ یوسف محرم (عمر 63 سال)، علاء رجب دریملی (عمر 53 سال) اور ابراہیم رشاد ابو زاید (عمر 33 سال) شامل ہیں۔
واضح رہے کہ تمام رہا ہونے والے اسیران ’عوفر‘ جیل سے آئے ہیں اور ان میں سے اکثریت معمر افراد پر مشتمل ہے۔
رہا ہونے والے زیادہ تر اسیران قید کے سفاکانہ حالات کے نتیجے میں شدید تھکن اور کمزوری کا شکار ہیں، جبکہ ان میں سے کچھ کو ان زخموں اور بیماریوں کے علاج کے لیے خصوصی شعبوں میں منتقل کیا گیا ہے جو قید کے دوران شدت اختیار کر گئی تھیں۔
قابض حکام نے اتوار کے روز اسی طریقے سے کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے اور ریڈ کراس کی ٹیموں کی مدد سے 14 اسیران کو رہا کیا تھا۔
ان 13 اسیران کی آمد کے ساتھ ہی ’طوفان الاحرار‘ معاہدے کے تمام مراحل کے اختتام سے لے کر 29 جون سنہ 2026ء تک شہداء الاقصیٰ ہسپتال پہنچنے والے رہا شدہ اسیران کی تعداد 434 ہو گئی ہے۔
کمیشن برائے امور اسیران اور کلب برائے اسیران کے اعداد و شمار کے مطابق، قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اسیران کی تعداد 9600 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں غزہ کی پٹی کے تقریباً 1250 قیدی شامل ہیں جنہیں ’غیر قانونی جنگجو‘ قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ 90 خواتین اسیران اور تقریباً 350 بچے بھی قید میں ہیں۔
