مقبوضہ بیت المقدس،(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی سفاکیت کا ایک اور دردناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں پندرہ سالہ فلسطینی بچہ امیر احمد جابر سر میں گولی لگنے کے بعد جام شہادت نوش کر گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب قابض اسرائیل کی افواج نے مغربی کنارے کے شہر البیرہ کے علاقے ام الشرائط میں دھاوا بولا۔
فلسطین میڈیکل کمپلیکس نے اعلان کیا کہ یہ بچہ قابض فوج کی جانب سے سر میں گولی مارے جانے کے بعد انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا، جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے دم توڑ دیا۔
فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے بتایا کہ رام اللہ میں موجود ان کی ٹیموں نے بچے کو شدید زخمی حالت میں پایا اور اسے ہسپتال منتقل کرنے سے قبل جائے وقوعہ پر ہی آکسیجن کے ذریعے بچانے کی ناکام کوشش کی۔
یہ المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب قابض فوج نے البیرہ اور رام اللہ شہروں پر یلغار کی اور ام الشرائط کے علاقے میں ایک فوجی آپریشن کو انجام دیا۔
فلسطینی وزارت صحت کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی افواج اور یہودی آباد کاروں کی گولیوں اور حملوں کے نتیجے میں 72 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔
مغربی کنارے کے شہر اور قصبے مسلسل اسرائیلی جارحیت کی زد میں ہیں، جس میں روزانہ کی بنیاد پر گھروں میں گھسنا، قتل و غارت گری، گرفتاریاں، گھروں کو مسمار کرنا اور املاک و مقدس مقامات کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
اس تناظر میں دیوارِ مزاحمت اور بستی کاری کمیشن نے رپورٹ دی ہے کہ گذشتہ مئی کے مہینے کے دوران قابض فوج اور یہودی آباد کاروں نے 1659 حملے کیے، جن میں سے 1108 حملے قابض فوج نے کیے اور 551 حملوں کا ارتکاب یہودی آباد کاروں نے کیا۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء سے مغربی کنارے بشمول مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیل کی فوجی جارحیت کے نتیجے میں 1172 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 12 ہزار 666 افراد زخمی، تقریباً 23 ہزار فلسطینیوں کو گرفتار اور 33 ہزار کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔
