رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) پیر کے روز رام الله کے مشرق میں واقع قصبہ دیر جریر کے عوام اور ہزاروں سوگوارانِ نے انتہائی جذباتی اور پُروقار فضا میں دو شہیدوں 53 سالہ عودہ عبد الرحيم عودہ فراخنہ اور 26 سالہ أحمد عادل رشيد أبو مخو کے جسدِ خاکی کو سپردِ خاک کر دیا۔ یہ دونوں شہداء قصبے پر ہونے والے یہودی آباد کاروں کے غنڈہ گردانہ حملے کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔
جنازے کا جلوس ہسپتال سے روانہ ہو کر شہداء کے آبائی مکانات تک پہنچا، جہاں غم زدہ لواحقین اور اقارب نے ان کے چہروں کا آخری بار دیدار کیا۔ اس کے بعد دیر جریر کے مرکزی مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور پھر دونوں شہداء کو قصبے کے آبائی قبرستان میں مٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
اس عظیم اجتماع اور جنازے کے دوران شرکاء نے پُرعزم نعرے بازی کی۔ عوام نے استقامت، ثابت قدمی اور قابض فوج و یہودی آباد کاروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ شہداء کی شجاعت اور اپنی ارضِ پاک کے دفاع میں پیش کی جانے والی گراں قدر قربانیوں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس سانحے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما عبدالرحمن شدید نے رام الله کے مشرق میں واقع قصبہ دیر جریر کے دونوں شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ یہ بہیمانہ جرم مغربی کنارے میں ہمارے مظلوم عوام کے خلاف قابض صیہونی حکومت کی طرف سے مسلط کردہ منظم قتل و غارت اور ریاستی دہشت گردی کی پالیسی کا ایک اور گھناؤنا تسلسل ہے۔
عبدالرحمن شدید نے دیر جریر کے غیور باسیوں کے آہنی حوصلے اور اس دہشت گردانہ حملے کے خلاف ان کے جرات مندانہ دفاع کی بھرپور تحسین کی۔ انہوں نے اس لاثانی استقامت کو اپنی زمین اور ناموس کے تحفظ کے پختہ عزم کا غماز قرار دیا اور اس بات پر دوٹوک انداز میں زور دیا کہ ہمارے غیور عوام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ یہودی آباد کار بغیر کسی سخت جوابی ردعمل کے ہمارے شہروں اور دیہاتوں کو پامال کریں، چاہے اس کے لیے کتنی ہی گراں قدر قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ قابض دشمن اور اس کے بھیڑیے نما آباد کاروں کے یہ مکروہ جرائم ہمارے عوام کے عزمِ صمیم، اپنی ارضِ مقدس اور بنیادی حقوق کے ساتھ ان کے گہرے عشق، یا مغربی کنارے میں الحاق، جبری انخلاء اور غاصبانہ آباد کاری کے منصوبوں کو مسلط کرنے کی ناپاک کوششوں کو ہرگز کامیاب نہیں بنا سکیں گے۔
عبدالرحمن شدید نے پرزور اپیل کی کہ دشمن کے مقابلے کے لیے تمام تر وسائلِ استقامت کو مستحکم کیا جائے، دفاعی و حفاظتی کمیٹیوں کو پوری طرح فعال بنایا جائے، اور یہودی آباد کاروں کی روز افزون جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے شہریوں کی بھرپور پشت پناہی کی جائے۔ انہوں نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ شہداء کا پاکیزہ لہو ہمیشہ استقامت اور مزاحمت کا درخشاں مینار رہے گا، اور قابضین کی یہ دہشت گردی ہمارے عوام کو اپنے اصولوں اور نظریات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔
