رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوجی عدالت نے پچپن سالہ فلسطینی ڈاکٹر دیما امین کی حراست میں پانچ دن کی مزید توسیع کر دی ہے، جنہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا، حالانکہ وہ حراست کے دوران شدید دل کے دورے کا شکار ہوئیں اور ان کی دل کی نالی کی سرجری کی گئی۔
خواتین کے امراض کی ماہر ڈاکٹر دیما امین کو قابض صہیونی فوج نے گذشتہ منگل کی صبح وسطی غرب اردن کے شہر رام الله میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد چھتیس گھنٹے تک ان سے تمام تر رابطہ منقطع رہا۔ ان کے اہل خانہ یا وکیل کو ان کے حراستی مقام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
ڈاکٹر دیما امین نے اپنی چشم دید گواہی میں انکشاف کیا کہ گرفتاری کے دوران انہیں وحشیانہ تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنایا گیا، جب ان کے ہاتھوں کو انتہائی سختی سے جکڑ دیا گیا، جبکہ قابض حکام نے ان کی صحت کے بگڑتے ہوئے حالات کے باوجود ان کے ہاتھوں سے ہتھکنڈے ہٹانے سے صریحاً انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں ان کی صحت انتہائی درجے تک خراب ہو گئی اور وہ دل کے شدید دورے کا شکار ہو گئیں۔
مذکورہ خاتون ڈاکٹر کو مقبوضہ بیت المقدس کے هداسا ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کے دل کی سرجری کی گئی، جس کے بعد قابض حکام نے ہسپتال سے چھٹی ملتے ہی انہیں فوری طور پر بنجمن حراستی کیمپ میں واپس دھکیل دیا، حالانکہ انہیں مستقل طبی نگرانی اور دیکھ بھال کی اشد ضرورت تھی۔
دوسری جانب میڈیسن سانس فرونٹیر (ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز) تنظیم نے گائنی اورامراضِ زچگی کی ماہر فلسطینی ڈاکٹر دیما محمد امین کی ان کے گھر سے گرفتاری سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے اسے فلسطینی طبی عملے کو نشانہ بنانے اور حراست میں لینے کی قابض اسرائیل کی منظم مہم کا تازہ ترین المیہ قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر دیما امین کا یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والی پوسٹس اور مواد کی بنیاد پر فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، ایسے عالم میں کہ اس ظالمانہ پالیسی کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ قابض حکام ایسی تمام آراء اور اشاعتوں کو اشتعال انگیزی کے زمرے میں ڈال کر وسیع پیمانے پر انتقامی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
