کراچی – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین فائونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام علاقائی آزادی، سامراج مخالف جدوجہد اور صیہونیت مخالف تحریک میں فلسطین کی مرکزی حیثیت کے عنوان پر آن لائن ویبنار کا انعقاد کیا گیا ۔ ویبنار سے پاکستان کے معروف تجزیہ نگار اور سابق سفارتکار غلام رسول بلوچ، فلسطین فائونڈیش پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم ،فلسطین سے ڈاکٹر عبد الطیف حاج،یونان سے سابق وزیر عفار کوسٹاس، لبنان سے معروف صحافی زینب سید علی، یمن سے حسین البخیتی،انڈونیشیا سے ڈاکٹر ڈینا سلیمان،عراق سے ڈاکٹر منال فنجان، ایران سے فاطمہ اسدی او ر ہندوستا ن سے فیروز مٹھی بور والا نے شرکت کی اور خطاب کیا۔
مقررین کاکہنا تھا کہ فلسطین کو محض ایک خطہ یا سیاسی مسئلہ قرار دینے کے بجائے اسے عالمی انصاف، انسانی وقار اور آزادی کا بنیادی قطب نما قرار دیا۔انہوںنے کہ خطے کی موجودہ جنگوں اور خونریزی کو امریکہ اور صیہونی ریاست کے اس مشترکہ ہدف کا حصہ قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی تشکیلِ نو اور مزاحمت کو کچلنا ہے یعنی ایک طرف گریٹر اسرائیل اور دوسری طرف نیو مڈل ایسٹ قائم کرنا ہے۔مقررین کاکہنا تھا کہ فلسطین کے علاوہ ایران، لبنان، شام اور یمن میں جاری کشیدگی اور بمباری ایک ہی سامراجی اور صیہونی جنگ کے مختلف محاذوںکا حصہ ہے۔مقررین کاکہنا تھا کہ غاصب صیہونی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور نام نہاد امن معاہدے براہ راست خیانت ہیں۔انہوںنے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی اور اندرونی بدامنی کے پس منظر میں سامراجی انٹیلی جنس نیٹ ورکس (جیسے سی آئی اے اور موساد)براہ راست ملوث ہیں۔مقررین نے علاقائی آزادی کے تناظر میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حقوق اور آزادی کے لیے آواز بلند کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔غزہ سے لے کر بیروت، دمشق، صنعاء اور پاکستان تک تمام مظلوم قوتوں کو ایک مشترکہ اور ناقابلِ شکست محاذ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
آج استعماری قوتیں صرف فلسطین کو ہی نہیں بلکہ یونان سمیت ہر ملک کو جو فلسطین کی حمایت کرنا چاہتا ہے اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔زیتون کا درخت صرف فلسطین کی علامت نہیں بلکہ یونان کی بھی علامت ہے۔ٹرمپ دراصل آج کے امریکہ کی ایک بھیانک تصویر ہے۔
مقررین کاکہنا تھا کہ یمن ہمیں ایک اور دردناک سبق دیتا ہے۔ 2015ء سے جاری جنگ نے یمن میں بے پناہ تباہی اور انسانی مصائب پیدا کیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے اندازے کے مطابق، 2021ء کے اختتام تک یمن میں تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے تھے، جن میں سے بہت سے افراد بھوک اور قابلِ تدارک بیماریوں کے باعث جان سے گئے۔ایک کروڑ اسی لاکھ سے زیادہ افراد کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ 48 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
مقررین نے کہاکہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہری اپنے گھروں میں ہلاک ہوئے ہیں، جن میں پورے کے پورے خاندان بھی شامل ہیں۔ ہمیں ان کی سلامتی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، خواہ لبنان کی سیاست کے بارے میں ہماری رائے کچھ بھی ہو۔جنوبی لبنان کے دیہاتوں پر ہر روز بمباری کی جاتی ہے اور انہیں بلڈوزروں سے مسمار کیا جاتا ہے۔ آج لبنان کی فضا بارود کی بو سے بھری ہوئی ہے، اور اس کے ذمہ دار کو پوری دنیا جانتی ہے۔ یہ وہی قوت ہے جس نے غزہ میں انسانیت کی تاریخ کی بدترین نسل کشی کی۔ مقررین نے مزید کہا کہ ہم دل سے چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ترکیہ یمن میں اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف صف آرا نہ ہوں۔ہم امید کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا اتحاد قائم ہو، جس میں ایران، عراق، ترکیہ، سعودی عرب، شام اور پاکستان شامل ہوں۔
مقررین نے کہا کہ عراق نے فلسطین کی حمایے سے دستبردار ہونے کا امریکی دبائو مسترد کیا ہے عراق ہمیشہ فلسطین کے مسئلے کو پوری امت کا مسئلہ سمجھتے آیاہے، اور ہمارا مؤقف رہا ہے کہ فلسطین کی سلامتی ہی اسلامی امت کی سلامتی ہے۔ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ممالک کے مقررین کاکہنا تھا کہ ایک محاذ اور ایک محورِ مزاحمت کے تناظر میں ایران نے امریکہ، مغرب اور اسرائیل کی مشترکہ طاقت کا مقابلہ کیا ہے۔ میکرون سے لے کر برطانیہ تک مختلف مغربی قوتوں نے جو بھی کوششیں کیں، ایران نے تنہا مغربی محور کا مقابلہ کیا ہے۔