غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ ظالمانہ محاصرہ توڑنے کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا 2 کے شرکاء کی کوششوں کو سراہا ہے جو اسپین کے شہر بارسلونا سے غزہ کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔
ایک اخباری بیان میں حماس نے فلوٹیلا میں شامل انسانی حقوق کے کارکنوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مواقف انصاف اور انسانی اقدار کے ساتھ وابستگی کا اظہار ہیں اور یہ اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ دو ملین سے زائد فلسطینیوں پر مسلط کیے گئے غیر انسانی محاصرے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ درجنوں ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 1000 رضاکاروں کی شرکت اور قابض اسرائیل کے ہتھکنڈوں کو چیلنج کرنا اس بات کی علامت ہے کہ محاصرہ توڑنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے دشمن کی خوفزدہ کرنے والی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں، نیز یہ عمل مسئلہ فلسطین کی حقانیت اور فلسطینی عوام کے باوقار زندگی گزارنے کے حق کو اجاگر کرتا ہے۔
حماس نے مطالبہ کیا کہ محاصرے کے خلاف بین الاقوامی تحاریک میں تیزی لائی جائے، خاص طور پر ان حالات میں جب غزہ کی پٹی میں انسانی بحران سنگین ترین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔
تحریک نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بحری بیڑے کو مکمل تحفظ فراہم کریں، اسے راستے میں روکنے کی کوششوں کا سدِباب کریں اور غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ ظالمانہ محاصرے کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔
واضح رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے جہاز گذشتہ روز اتوار کو اسپین کی بندرگاہ برشلونہ سے ایک بین الاقوامی مہم کے تحت روانہ ہوئے ہیں جس کا مقصد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانا اور غزہ پر قابض اسرائیل کے غیر قانونی محاصرے کو پاش پاش کرنا ہے۔
اس بحری بیڑے میں درجنوں کشتیاں شامل ہیں جن پر تقریباً 70 ممالک کے کارکن سوار ہیں، جبکہ توقع ہے کہ شرکاء کی مجموعی تعداد 2000 کے قریب پہنچ جائے گی جن میں انسانی ہمدردی کے شعبے سے وابستہ افراد اور عدم تشدد کے طریقوں پر تربیت یافتہ رضاکار شامل ہیں۔
