غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے نئے سربراہ منتخب ہونے والے مجاہد رہنما خلیل الحیہ کو مختلف سرکاری شخصیات، فلسطینی دھڑوں، مزاحمتی قوتوں اور علاقائی اسلامی تحریکوں کی طرف سے مبارکبادوں اور ٹیلی فون کالز کا ایک طویل سلسلہ موصول ہوا ہے۔ ان تمام پیغامات میں نئی قیادت کے ساتھ بھرپور تعاون کا یقین دلایا گیا ہے اور تحریک کے اندرونی سکیورٹی اور سیاسی چیلنجز کے باوجود اس انتخابی عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے پر مسرت کا اظہار کیا گیا ہے۔
حسین الشيخ کا ٹیلی فون رابطہ
خلیل الحیہ کو ریاستِ فلسطین کے نائب صدر حسین الشيخ کی طرف سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی، جس میں انہوں نے حماس کا سربراہ منتخب ہونے پر خلیل الحیہ کو مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے کامیابی اور درست سمت پر گامزن رہنے کی دعا کی۔
اس گفتگو کے دوران خلیل الحیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کی خدمت، ان کے قومی اصولوں کے دفاع اور غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور ہر جگہ بسنے والے فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مل کر فلسطینی اتحاد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔
فلسطینی دھڑوں کے پیغامات
اسلامی جہاد نے خلیل الحیہ کے انتخاب پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد حماس کا اپنے اندرونی انتخابات کو کامیابی سے مکمل کرنا اور سیاسی بیورو کی صدارت کے عہدے کو پُر کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جاری جارحیت کے باوجود تحریک مضبوط اور متحد ہے۔ تحریک نے نئی قیادت کے لیے مزاحمت کے سفر کو جاری رکھنے میں کامیابی کی دعا کی۔
فلسطینی مجاھدین تحریک نے خلیل الحیہ کے انتخاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ جاری جنگ کے ماحول میں اس قائدانہ ذمہ داری کو بحسن و خوبی سر انجام دینا تحریک کے استحکام اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی زبردست صلاحیت کا غماز ہے۔ تحریک نے آنے والے مرحلے کے لیے نئی قیادت کے لیے کامیابی کی تمنا کا اظہار کیا۔
فلسطینی احرار تحریک نے بھی حماس کی قیادت اور اس کے نئے سربراہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ انہیں منتخب قیادت کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع جاری رکھیں گے۔ تحریک نے تمام فلسطینی قوتوں کے درمیان قومی اتحاد اور شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔
علاقائی قوتوں کے پیغامات
حزب اللہ نے خلیل الحیہ کو سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ انتخاب اس حقیقت کا مظہر ہے کہ تمام کارروائیوں اور حماس کو کمزور کرنے کی سازشوں کے باوجود تحریک بدستور طاقتور اور متحد ہے۔ انہوں نے خلیل الحیہ کے لیے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کامیابی کی دعا کی۔
یمن کی انصار اللہ جماعت کے سیاسی بیورو نے خلیل الحیہ کے انتخاب پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ نئی قیادت فلسطینی مزاحمت کو مزید تقویت دے گی، اور جماعت نے فلسطینی عوام اور ان کے عادلانہ کاز کے ساتھ اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
دوسری جانب اخوان المسلمین جماعت نے بھی حماس کو اس انتخابی عمل کی تکمیل پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ خلیل الحیہ کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلسل جنگ کے باوجود تحریک کے ادارے متحرک اور اپنی قیادت کی تجدید کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ جماعت نے امید ظاہر کی کہ اس قیادت کی منتقلی سے فلسطینی عوام کے اتحاد کو فروغ ملے گا اور قابض دشمن کے خلاف مزاحمت کا سفر مزید تیز ہوگا۔
شوریٰ اور ادارہ جاتی راستے کے تحت انتخابات
یاد رہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے پیر کے روز اس بات کا اعلان کیا تھا کہ خلیل الحیہ کو ایک منظم اندرونی انتخابی عمل کے اختتام پر تحریک کا نیا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے، جو ایک شوریٰ اور ادارہ جاتی دائرہ کار کے تحت انجام پایا۔ اس عمل میں غزہ کی پٹی، مغربی کنارے، قابض دشمن کی جیلوں اور بیرونِ ملک موجود تحریک کے تمام شعبوں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی تھی۔
تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے ان انتہائی حالات اور اپنی قیادت کو منظم انداز میں نشانہ بنائے جانے کے باوجود اس انتخابی عمل کی تکمیل اس بات کی دلیل ہے کہ حماس اپنے اداروں کے ضوابط اور شوریٰ کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے۔ تحریک نے واضح کیا کہ اس مرحلے کی اولین ترجیحات میں غزہ کی پٹی پر مسلط جارحیت کا خاتمہ، محاصرے کا قلع قمع، امداد کی فراہمی، تعمیر نو کا آغاز، جبری انخلاء کے منصوبوں کی تردید، قومی اتحاد کا فروغ، اور مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کی استقامت کی حمایت سرفہرست ہیں۔
