غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے عام انتخابات کے قانون میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے کی گئی حالیہ ترامیم پر تنقید کرتے ہوئے اسے یک طرفہ فیصلوں کے دائرہ کار میں قرار دیا ہے، جو قومی اتفاق رائے اور سیاسی شراکت داری سے ہٹ کر فلسطینی سیاسی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
تحریک کے ترجمان حازم قاسم نے کہ فلسطینی اتھارٹی کی قیادت “فلسطینی صورتحال کے ساتھ کھلواڑ جاری رکھے ہوئے ہے”۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی قومی اتفاق رائے یا کسی متفقہ قانونی بنیاد کے بغیر سیاسی نظام کی ساخت سے متعلق فیصلے جاری کر رہی ہے۔
حازم قاسم نے اپنی فیس بک پوسٹ پر مزید کہا کہ اتھارٹی کا سیاسی اداروں کو جماعتی مفادات کے تحت چلانا اور فیصلہ سازی میں فلسطینی قوتوں اور دھڑوں کو نظر انداز کرنا، سیاسی بحران کو مزید سنگین بنائے گا اور فلسطینی سیاسی نظام کی اصلاح کے مواقع کو کمزور کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ جسے وہ “سیاسی اداروں کا اغواء” قرار دیتے ہیں، اور فیصلہ سازی کو ایک تنگ دائرے تک محدود رکھنا، تقسیم کو گہرا کرنے اور قومی شراکت داری کی بنیاد پر سیاسی نظام کی تعمیر نو کے کسی بھی سنجیدہ راستے کے دروازے بند کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
حازم قاسم کے یہ بیانات فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی جانب سے اتوار کے روز عام انتخابات کے قانون میں ترمیم کے لیے ایک صدارتی فرمان جاری کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اس فرمان میں قانون ساز کونسل کی تشکیل، انتخاب لڑنے کے طریقہ کار اور انتخابی نمائندگی سے متعلق کئی ترامیم شامل ہیں۔
سرکاری فلسطینی نیوز ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق، نئی ترامیم کے تحت قانون ساز کونسل کے اراکین کی تعداد بڑھا کر ۲۰۰ کر دی گئی ہے، نشستیں جیتنے کے لیے درکار انتخابی حد (تھریش ہولڈ) کو کم کر کے ۱ فیصد کر دیا گیا ہے، اور انتخابی فہرست میں امیدواروں کی کم از کم تعداد ۱۶ سے بڑھا کر ۲۰ کر دی گئی ہے۔
ان نئی ترامیم نے فلسطینی سیاسی حلقوں میں ملے جلے ردعمل کو جنم دیا ہے۔ یہ صورتحال سیاسی نظام کی اصلاح اور منتخب اداروں کی بحالی کے طریقہ کار پر جاری بحث کے دوران پیدا ہوئی ہے، جبکہ فلسطینی قوتیں اور دھڑے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسی جامع انتخابات کرائے جائیں جو قومی اتفاق رائے پر مبنی ہوں اور جن میں فلسطینی میدان کے تمام اجزاء کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
