دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے فلسطین میں مزاحمتی کمیٹیز کی قیادت، کارکنوں اور مجاہدین اور ان کے عسکری ونگ ’الناصر صلاح الدین بریگیڈز‘ کو کمیٹیوں کے قیام کی ستائیسویں سالگرہ کے موقع پر مبارکباد پیش کی ہے اور فلسطینی عوام، ان کے کاز اور جائز قومی حقوق کے دفاع میں ان کی جدوجہد اور پیش کردہ قربانیوں کو یاد کیا ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے قومی تعلقات کے دفتر کے سربراہ حسام بدران نے فلسطین میں مزاحمتی کمیٹیز کے سیکرٹری جنرل ایمن الششنیہ کے نام ایک مبارکبادی پیغام میں کہا کہ تحریک اس موقع پر قابض دشمن کا مقابلہ کرنے اور فلسطینی عوام، ان کی زمین، مقدسات اور قومی حقوق کے دفاع میں کمیٹیز کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہےاور ان کی قیادت، کارکنوں اور مجاہدین کو پرخلوص مبارکباد پیش کرتی ہے۔
حسام بدران نے بانی رہنماؤں اور شہداء کی قربانیوں کو یاد کیا جن میں نمایاں ترین نام بانی شہید جمال ابو سمهدانہ ابو عطایا کا ہے، اس کے علاوہ ان دیگر قائدینِ شہداء کو بھی یاد کیا جو مزاحمت اور آزادی کے اس سفر میں شہید ہوئے، اور اشارہ کیا کہ یہ قربانیاں فلسطینی مزاحمتی تحریک کے ایک بنیادی اور اصیل حصے کی نمائندگی کرتی ہیں۔
حسام بدران کے مطابق یہ سالگرہ ایسے وقت میں آئی ہے جب فلسطینی عوام پر جاری جنگ اور جارحیت کے سائے میں ایک انتہائی خطرناک قومی مرحلہ درپیش ہے، جو اس بات کا متقاضی ہے کہ استقامت کو مضبوط کیا جائے، صفوں میں اتحاد پیدا کیا جائے، قومی شراکت داری کو مستحکم کیا جائے، اور فلسطینی کاز کو ختم کرنے اور فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کا انکار کرنے والی قابض اسرائیلی سازشوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائے۔
حماس کے قومی تعلقات کے دفتر کے سربراہ نے فلسطین میں مزاحمتی کمیٹیوں کے ساتھ جڑے ہوئے قومی تعلقات پر فخر کا اظہار کیا، اور باہمی گفت و شنید، تعاون اور مشترکہ قومی عمل کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ فلسطینی عوام کا اتحاد مضبوط ہو، ان کے ثابت قدم اصولوں کا دفاع ہو اور ان کی استقامت و مزاحمت کو تقویت ملے۔
حسام بدران نے اپنے پیغام کے آخر میں مزاحمتی کمیٹیوں کی قیادت، کارکنوں اور مجاہدین کو ایک بار پھر مبارکباد پیش کی، اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ وہ مزاحمت کے راستے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے شہداء کو قبول فرمائے، فلسطینی عوام کو ثابت قدمی اور استقامت عطا فرمائے، اور مزاحمتی کمیٹیوں کو ان کے قومی سفر کو جاری رکھنے کی توفیق دے تاکہ فلسطینی عوام اپنے آزادی، واپسی اور استقلال کے تمام جائز حقوق حاصل کر سکیں۔
