Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس کی ترجیحات واضح، خلیل الحیہ نے غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا پر زور دیا

دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ نے حماس کی قیادت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں اس بات پر زور دیا ہے کہ جماعت کی سب سے پہلی ترجیح قابض اسرائیلی جارحیت کا مکمل خاتمہ اور غزہ سے قابض دشمن کا مکمل انخلا ہے۔

خلیل الحیہ نے ایک ویڈیو پیغام میں مذاکراتی عمل کی ضامن ریاستوں پر زور دیا کہ وہ انتہائی دائیں بازو کی قابض حکومت پر حقیقی دباؤ ڈالیں تاکہ طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے اور اگلے مرحلے کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے۔

انہوں نے بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی عوام کے مسلما حقوق، بالخصوص آزادی، اپنی مستقل ریاست کے قیام اور حقِ خودارادیت پر کسی بھی قسم کی دراندازی اور سودے بازی کو سختی سے مسترد کرنے کے مؤقف کا دہرایا۔

’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ نے کہا کہ علاقے میں تیزی سے رونما ہونے والی پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مظلوم فلسطینی عوام کا استحکام، سکیورٹی اور ان کے حقوق و آزادی کا حصول ہی پوری دنیا اور خطے کے امن و استحکام کی ضامن کنجی ہے۔

انہوں نے مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک مذاکرات کے آغاز سے ہی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں اور اس خونریز جنگ بندی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد میں مصروف ہیں۔

خلیل الحیہ نے واضح کیا کہ حماس کی دوسری بڑی ترجیح قطاع غزہ کے تباہ حال شہریوں کے لیے ایک باوقار انسانی زندگی کی بحالی، ان کی جبری بے دخلی کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانا اور ری کنسٹرکشن کے عمل کو تیز کرنا ہے، کیونکہ یہ فلسطینی عوام کا ایک بنیادی اور مسلمہ حق ہے جس پر کوئی سودے بازی یا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غصب شدہ غزہ فلسطینی ریاست اور وجود کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، نیز غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے لیے تمام محاذوں پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی، جب کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں سے مظلوم اسیران کی آزادی، ان کی مصائب کا خاتمہ اور ایک باوقار زندگی کی فراہمی کے لیے کوششیں مسلسل جاری رہیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک کی تیسری ترجیح غیور فلسطینی عوام کی باہمی وحدت کا قیام ہے۔ انہوں نے تمام فلسطینی دھڑوں اور قیادت کو ایک متفقہ قومی منشور پر اکٹھا ہونے کی دعوت دی جو مظلوم عوام کی ترجیحات اور ان کے عظیم اہداف کو پورا کر سکے، اور واضح کیا کہ موجودہ نازک ترین مرحلہ کسی بھی قسم کی انفرادیت یا تفریق کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan