Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس کا وسیع قومی اتحاد کے ساتھ انتخابات لڑنے کا اعلان: حسام بدران

دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما اور شعبہ عوامی تعلقاتِ کے سربراہ حسام بدران نے کہا ہے کہ تحریک ممکنہ طور پر وسیع ترین قومی اتحاد کے تحت انتخابات میں حصہ لے گی ۔ انہوں نے انتخابی عمل میں حصہ لینے اور فلسطینی قوتوں کے ایک وسیع طبقے پر مشتمل بلاک کی تشکیل کے لیے کام کرنے کے اپنے عزم کی تصدیق کی۔

بدران نے الاقصی چینل کو دیے گئے بیانات میں واضح کیا کہ حماس نے متفقہ سیاسی پروگرام کی بنیاد پر سب سے بڑے انتخابی قومی بلاک تک پہنچنے کے مقصد سے گذشتہ ماہ سے مختلف فلسطینی قوتوں، دھڑوں اور شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں اور رابطوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک چاہتی ہے کہ قانون ساز کونسل میں ایسا وسیع ترین قومی نمائندہ پہنچے جو فلسطینی فیصلوں میں شراکت پر یقین رکھتا ہو، قابض دشمن کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کو مسترد کرتا ہو اور فلسطینی عوام کی امنگوں پر پورا اترتا ہو،۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ انتخابات سیاسی حقائق کو تبدیل کرنے اور قومی فیصلوں میں انفرادیت پسندی کے خاتمے کا ایک موقع ہیں۔

بدران نے انتخابی عمل کے ذریعے اپنے رہنماؤں اور سیاسی پروگرام کو منتخب کرنے کے فلسطینیوں کے حق پر زور دیا، اور کہا کہ انتخابات فلسطینی گھرانے کو از سر نو منظم کرنے کا بہترین راستہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس ووٹرز کی مرضی اور تحریک کی شرکت کے بغیر فلسطینی سیاسی نظام کی از سر نو انجینئرنگ کی ہرگز اجازت نہیں دے گی، اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی آنے والے سیاسی بندوبست میں حماس کی موجودگی اس کی عوامی اور سیاسی حیثیت پر مبنی ہونی چاہتی ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ بعض دھڑے اور قوتیں فلسطینیوں کو اپنے سیاسی پروگرام کے انتخاب کی آزادی کی ضمانت دینے والے حل تلاش کرنے کی غرض سے فلسطینی عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں، جب کہ حماس نے انتخابات کی تیاری کے لیے اعلیٰ سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں اور اس کی انتخابی مشینری نے کام شروع کر دیا ہے۔

بدران نے اس بات پر زور دیا کہ حماس انتخابات کی کامیابی اور فلسطینیوں کے پولنگ بوتھ تک پہنچنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ اس نےاس بات کی تصدیق کی کہ وہ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کام کرے گی جو انتخابی راستے میں حائل ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک صدارتی انتخابات اور نیشنل کونسل کے انتخابات کے انعقاد کی حمایت کرتی ہے۔ تقرری کے ذریعے قومی کونسل کے اراکین کے انتخاب کو مسترد کرتی ہے، فلسطینی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک جامع قومی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

غزہ کا انتظام حوالے کرنا

غزہ کے حوالے سے بدران نے کہا کہ پٹی کے مکینوں نے نسل کشی کی جنگ کے دوران بڑی قربانیاں دی ہیں۔ حماس نے جارحیت کو روکنے اور فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق کا دفاع کرنے کے مقصد سے تصادم اور مذاکرات کا راستہ اپنایا۔

انہوں نے واضح کیا کہ تحریک نے 15 نکاتی روڈ میپ کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ اس نے اتفاقِ رائے کے مرحلے کے دوران دھڑوں اور قومی شخصیات کی تجاویز پر بحث کی ہے، اس بات کی نشاندہی کی کہ اس منصوبے کی منظوری کو وسیع پیمانے پر فلسطینی پذیرائی حاصل ہوئی۔

بدران نے کہا کہ اب اس منصوبے کی فائل قابض اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاھو، ثالثوں اور امریکی انتظامیہ کے موقف سے جڑ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس طے شدہ امور پر عمل درآمد کےلیے پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک نے اپنے اصولوں سے کوئی پسپائی اختیار نہیں کی اور اس نے معاہدے میں غزہ کے مکینوں کے حالات کو مدنظر رکھا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حماس نے نسل کشی کی جنگ کے پہلے مہینوں کے دوران کا انتظام کسی متفقہ فلسطینی فریق کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔

انہوں نے تکنیکی ماہرین کی کمیٹی کی تشکیل کے لیے تحریک کی رضامندی اور اس کے حوالے غزہ کے انتظام سے متعلق فائلیں سونپنے کی تیاری کا اعادہ کیا۔ قابض اسرائیل پر اس رجحان کے نفاذ میں رکاوٹیں کھڑا کرنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ حماس انتظامی کمیٹی کے غزہ میں داخل ہونے اور اس کے انتظام کی ہر تفصیل اس کے حوالے کرنے پر قائم ہے۔حماس نے عرب اور یورپی فریقوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ حماس اور فلسطینی دھڑوں نے وہ سب کچھ انجام دے دیا ہے جو ان سے مطلوب تھا۔

مغربی کنارے میں تبدیلی کے لیے اسرائیلی منصوبہ

مغربی کنارے کے حوالے سے بدران نے کہا کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک اسٹریٹجک اسرائیلی منصوبے کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد زمین پر حقائق کو تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زوریا کہ حماس پیش رفت کا جائزہ لے رہی ہے اور اپنے کارکنوں اور حامیوں کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود اس کا مقابلہ کرنے کے لیے فلسطینی قوتوں اور دھڑوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک مغربی کنارے میں اسرائیلی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دستیاب وسائل کے اندر کام کرنے کے لیے مختلف دھڑوں اور قومی تحریکوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

بدران نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ نیتن یاھو کی حکومت فلسطینیوں کے ساتھ تنازعہ طے کرنے کا نعرہ بلند کر رہی ہے، بالخصوص مغربی کنارے میں، ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی انتخابات کا قریب آنا فلسطینیوں کے خون کو اسرائیلی سیاسی پروپیگنڈے کا ایک آلہ بنا دیتا ہے۔

انہوں نے ایک ایسے قومی لائحہ عمل کی تشکیل کا مطالبہ کیا جو موجودہ مرحلے سے بالاتر ہو اور اس بات کی تصدیق کی کہ حماس اس ہدف تک پہنچنے کے لیے فلسطینی قوتوں اور دھڑوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

حماس کی ترجیحات میں بیت المقدس اور اسیران سرفہرست

بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے معاملے پر بدران نے کہا کہ القدس اور اقصیٰ تنازعے کا مرکز اور فلسطینی، عرب، اسلامی اور بین الاقوامی سطح پر فلسطینی کاز کا عنوان ہیں۔

انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ میں حقائق کو تبدیل کرنے کے لیے قطاع غزہ پر حملے کا استحصال کر رہا ہے، اور اس بات کی تصدیق کی کہ القدس اور اقصیٰ حماس کی سیاسی سرگرمیوں میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

فلسطینی اسیران کے حوالے سے بدران نے کہا کہ ان کا مسئلہ اسرائیل کے ساتھ تنازعے میں ایک مسلسل فائل ہے، اور انہوں نے تصدیق کی کہ حماس ان کی آزادی اور قید کے حالات کی بہتری کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتی ہے، اور یہ مسئلہ فلسطینی، بین الاقوامی اور سیاسی تحریکوں میں بھرپور طریقے سے موجود ہے۔

بدران نے قابض اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کو ایک مجرمانہ شخصیت قرار دیا، اور ان پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیلی جیلوں کے اندر فلسطینی اسیران پر دباؤ مزید سخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan