Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس کا مؤقف، غزہ پر حملے جنگ بندی معاہدے سے انحراف ہیں

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ غزہ کے رہائشی محلوں اور پناہ گزینوں کے خیموں پر قابض اسرائیل کی طرف سے جاری فضائی بمباری دراصل نسل کشی کی جنگ کا تسلسل اور شرم شیخ میں دستخط ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

حماس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ تازہ ترین فضائی حملے جن کے نتیجے میں بچوں اور شیرخوار بچوں سمیت کئی فلسطینی شہری شہید ہو گئے۔ درجنوں افراد زخمی و بے گھر ہوئے ہیں ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب معاہدے پر عمل درآمد کے لیے قاہرہ میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ نے اس امر پر زور دیا کہ یہ صورتحال قابض دشمن کے رویے کا از سر نو مکمل جائزہ لینے اور اس کے درندہ صفت رہنماؤں کو کٹہرے میں لانے کا تقاضا کرتی ہے۔

جماعت نے عالمی برادری کو اس مجرمانہ خاموشی اور غفلت کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا جو قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی طرف سے عام شہریوں اور معصوم بچوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر ڈھائے جانے والے ہولناک قتل عام پر اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے اس خاموشی کو فلسطینی عوام کے خلاف ایک “کلنک کا ٹیکہ اور ایک اور سنگین جرم” سے تعبیر کیا۔

حماس نے جنگ بندی معاہدے کے ثالثوں اور ضمانت دینے والے فریقوں سے ایک بار پھر پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا بھرپور احساس کریں، قابض دشمن کے ان گھناؤنے جرائم کی پُرزور مذمت کریں اور فوری طور پر عملی قدم اٹھاتے ہوئے صہیونی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معاہدے کی شروط کی خلاف ورزیاں بند کرنے پر مجبور ہو۔

غزہ میں وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران چھ شہداء کی لاشیں لائی گئی ہیں جن میں چار نئے شہداء، اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والا ایک شہید اور ملبے سے نکالی جانے والی ایک لاش شامل ہے جبکہ اس دوران 34 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

وزارت نے اس بات کی تأقید کی کہ اب بھی بہت سے متاثرین اور شہداء ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہیں کیونکہ ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ تاحال ان تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہے۔

وزارت صحت نے وضاحت کی کہ گذشتہ 11 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 1214 تک پہنچ چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 3977 ہو گئی ہے اور اس کے علاوہ 804 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔

وزارت نے اشارہ کیا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک شہداء کی مجموعی تعداد بڑھ کر 73,341 ہو گئی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan