غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے مقبوضہ فلسطینی شہر حیفا سے تعلق رکھنے والے اسیر عماد راجح مصطفی سرحان جن کی عمر اڑتالیس برس تھی کے انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ وہ قابض صہیونی عقوبت خانے جلبوع میں صہیونی جلادوں کے تشدد اور مجرمانہ غفلت کے باعث جام شہادت نوش کرگئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے چوبیس برس سے زائد کا عرصہ اسیری میں گزارا تھا۔ تحریک نے اس شہادت کو فلسطینی اسیران کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم کے ریکارڈ میں ایک نیا جرم قرار دیا ہے۔
حماس نے اتوار کے روز جاری کردہ ایک پریس بیان میں تصدیق کی ہے کہ عماد سرحان کی شہادت دانستہ طبی غفلت اور تشدد کی اس پالیسی کا نتیجہ ہے جسے قابض صہیونی حکام عقوبت خانوں کے اندر فلسطینی مرد و خواتین اسیران کے خلاف روا رکھے ہوئے ہیں۔ حماس نے ان سنگین خلاف ورزیوں میں اضافے پر خبردار کیا ہے جو اسیران کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔
بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ قابض صہیونی عقوبت خانوں کا انتظام اسیران کو علاج سے محروم رکھنے اور انہیں شدید ترین حالات میں رکھنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جو ایک سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد انہیں اذیت دینا اور ان کے حوصلوں کو توڑنا ہے۔ حماس نے یقین دلایا ہے کہ یہ اقدامات اسیران کے عزم اور ہمت کو شکست دینے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
حماس نے قابض حکومت اور اس کے عقوبت خانوں کے انتظامیہ کو اسیر عماد سرحان کی شہادت کا مکمل ذمہ دار قرار دیا ہے اور ان خطرات کی ذمہ داری بھی ان پر عائد کی ہے جن کا سامنا ان مظالم کے تسلسل کے نتیجے میں سینکڑوں بیمار اور زخمی اسیران کو ہے۔
تحریک نے فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اسیران کی حمایت میں سرگرمیوں کو تیز کریں اور ان کے نصب العین کو ہر سطح پر زندہ رکھیں۔ نیز تحریک نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور قابض ریاست پر دباؤ ڈالیں تاکہ فلسطینی اسیران کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم اور خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔
