مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور قابض اسرائیل کی طرف سے مسلسل ایسی کوششیں جاری ہیں جن کا مقصد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (انروا) کو ختم کرنا یا اسے کسی دوسرے اداروں کے ذریعے بدلنا ہے، اور حماس نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی کانگریس میں پیش کیا جانے والا بل ایک ایسے سلسلے کی نئی کڑی ہے جس کا مقصد اس ادارے کے کردار کا خاتمہ کرنا اور فلسطینی پناہ گزینوں کے تئیں اس کی تاریخی ذمہ داری کا صفایا کرنا ہے۔
حماس کے بیرون ملک قومی تعلقات کے شعبے کے سربراہ علی برکہ نے آج ہفتے کے روز جاری کردہ ایک اخلاقی بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ یہ تمام اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور یہ فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے اور ان کے اس بنیادی حق پر براہ راست حملہ ہیں جس کے تحت وہ سنہ 1948ء میں اجاڑے جانے کے بعد اپنے گھروں اور املاک کو واپس لوٹنے کا حق رکھتے ہیں۔
علی برکہ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ انروا، جسے سنہ 1949ء کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 302 کے تحت قائم کیا گیا تھا، محض ایک فلاحی ادارہ نہیں ہے بلکہ یہ فلسطینی عوام کی نکبہ کا ایک بین الاقوامی گواہ ہے، اور کروڑوں پناہ گزینوں کے تئیں عالمی برادری کی قانونی، سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری کا مجسمہ ہے، جب تک کہ حقِ واپسی اور معاوضے سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 194 نافذ نہیں ہو جاتی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ادارے کو ختم کرنے، اس کے دائرہ کار کو محدود کرنے یا اس کے اختیارات کو دیگر اداروں کے حوالے کرنے کی کوئی بھی کوشش پناہ گزینوں کے مسئلے کی قانونی اور تاریخی حقیقت کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکے گی، اور نہ ہی حقِ واپسی پر کوئی آنچ آنے دے گی کیونکہ یہ ایک ایسا انفرادی اور اجتماعی حق ہے جو اٹل ہے اور وقت گزرنے سے کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے اقوام متحدہ، جنرل اسمبلی، عطیہ دینے والے ممالک اور عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ امریکی اور اسرائیلی دباؤ کو یکسر مسترد کر دیں، انروا کے لیے پائیدار فنڈنگ کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کریں، اور تمام مقاما ت پر جہاں فلسطینی پناہ گزین بستے ہیں (خاص طور پر غزہ کی پٹی، مقبوضہ مغربی کنارے، لبنان، شام اور اردن میں) اس کی صحت، تعلیمی، فلاحی اور سماجی خدمات کو مزید تقویت بخشیں۔
انہوں نے عرب و اسلامی ممالک، انسانی حقوق کے اداروں اور دنیا بھر کے حریت پسندوں سے یہ اپیل کی کہ وہ انروا کے دفاع کے لیے ایک وسیع سیاسی، قانونی اور عوامی مہم کا آغاز کریں، کیونکہ یہ ادارہ بین الاقوامی فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے وطن کو واپسی تک فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔
