رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” کے رہنما محمود مرداوی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض ریاست کے جیل انتظامیہ کے غنڈہ گرد دستوں کی طرف سے “جانوت” جیل کے مختلف حصوں پر کیا گیا بہیمانہ حملہ—جس کے نتیجے میں کئی اسیر زخمی ہو گئے—قابض حکومت کے سفاکانہ اور مجرمانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جمعرات کے روز محمود مرداوی نے کہا کہ ہمارے بہادر اسیروں کے خلاف مسلسل اور خطرناک جبر، بدسلوکی اور محرومی کی پالیسی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان کی حمایت اور نصرت کے لیے ایک متحد قومی اور عوامی مؤقف اختیار کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قابض جیلوں میں اسیروں پر ہونے والے یہ حملے ان کے عزم و حوصلے کو ہرگز توڑ نہیں سکتے، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ قابض حکومت اس طرح کے تشدد کے ذریعے اسیروں کے حوصلے پست کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، لیکن وہ ہمیشہ بہادری کی علامت اور ہمارے عوام کے استقامت اور عزم کا استعارہ بنے رہیں گے۔
انہوں نے اسیروں کی سلامتی کی پوری ذمہ داری قابض جیل انتظامیہ پر عائد کی، اور ہمارے عوام کے طبقات سے پرزور اپیل کی کہ وہ اسیروں کی آزادی کے حصول تک اس اہم ترین کاز کے پیچھے متحد ہو جائیں۔
واضح رہے کہ جمعرات کے روز قابض اسرائیلی جیلوں کے غنڈہ گرد دستوں جنہیں “متسادا” اور “الیماز” کہا جاتا ہےکی طرف سے “جانوت” جیل کے متعدد حصوں پر دھاوے کے دوران دو فلسطینی اسیر زخمی ہو گئے۔
اسیران اور آزاد ہونے والے افراد کے امور کی کمیٹی نے بتایا کہ ان غنڈہ گرد دستوں نے جیل کے اندر ساؤنڈ بم اور ربڑ کی گولیاں استعمال کرتے ہوئے جبر کا بازار گرم کیا، جس کے نتیجے میں دو اسیر زخمی ہو گئے۔
کمیٹی نے مزید کہا کہ اسیروں کے خلاف جاری دھاووں اور ظالمانہ اقدامات کے سائے میں اب بھی جیل کے اندر شدید تناؤ کی فضا برقرار ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب غزہ پٹی پر جنگِ مسلط ہونے کے بعد سے قابض جیلوں میں فلسطینی اسیروں کے حقوق کی سنگین پامالیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی اسیروں کے حقوق کے ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل انکشاف کر رہی ہیں کہ اسیروں کو بدترین تشدد، بھوک، طبی سہولیات سے محرومی اور غیر انسانی حالات کا سامنا ہے۔
اسیران اور کلبِ اسیران نے وکلاء کے دوروں کی روشنی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جیلوں کے اندر اسیروں کو بجلی کے جھٹکے دینے، ربڑ کی گولیاں مارنے اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت ابتر ہو چکی ہے اور مختلف جیلوں میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
