Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

حزب اللہ کی غیر مسلحی تک مقبوضہ لبنانی علاقوں میں موجود رہیں گے: اسرائیلی وزیر

تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنانی محاذ پر جاری کشیدگی کے تناظر میں قابض اسرائیل کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے جمعہ کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عارضی جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود صہیونی فوج جنوبی لبنان میں ان تمام مقامات پر قابض رہے گی جن پر اس نے تسلط حاصل کیا ہے۔

یسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ قابض فوج لبنان کے اندر حزب اللہ کے خلاف جنگ کے دوران دس روزہ جنگ بندی اور تعطل کے مرحلے میں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی افواج ان تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھیں گی جنہیں انہوں نے نام نہاد کلیئرنس کے بعد قبضے میں لیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لبنانی علاقوں کے خلاف اسرائیلی عسکری جارحیت، بشمول زمینی حملہ اور لبنان بھر میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی ضربات نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم یہ مشن ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔

وزیر جنگ نے من گھڑت دعویٰ کیا کہ قابض فوج نے 1700 سے زائد عناصر کو ختم کر دیا ہے اور لبنانی سرزمین کے اندر 10 کلومیٹر گہرائی تک ایک نام نہاد سکیورٹی زون قائم کیا ہے، جو مغرب میں ساحل سے لے کر مشرق میں جبل الشيخ تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے بقول اس کا مقصد بستیوں پر براہ راست بمباری اور دراندازی کے خطرات کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس علاقے کو اسلحہ اور عناصر سے خالی کرانے کے ساتھ ساتھ وہاں کے مکینوں سے بھی محروم کر دیا گیا ہے، انہوں نے اشارہ کیا کہ قابض فوج اس زون میں انفراسٹرکچر کی صفائی کا عمل جاری رکھے گی، جس میں لبنانی دیہاتوں کے ان گھروں کو تباہ کرنا بھی شامل ہے جنہیں انہوں نے اپنی اصطلاح میں ٹھکانے قرار دیا ہے۔

سکیورٹی زون اور دریائے لیطانی کے درمیانی علاقوں کے حوالے سے یسرائیل کاٹز نے کہا کہ یہ علاقے تاحال اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں لیکن ابھی وہاں صفائی کا عمل مکمل نہیں ہوا، انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ کام سفارتی ذرائع سے یا پھر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد عسکری کارروائیوں کے تسلسل کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو سکیورٹی زون میں واپس آنے والے شہریوں کو اپنے گھر دوبارہ خالی کرنا ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ لیطانی کے علاقے سے باہر حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے جو حملہ پلان کیا گیا تھا وہ اپنے اہداف حاصل کرنے سے قبل ہی رک گیا، جس کا دوبارہ آغاز اور نفاذ ضروری ہوگا۔

یسرائیل کاٹز نے اپنی بات کا اختتام اس تاکید پر کیا کہ حزب اللہ کو عسکری یا سفارتی طور پر غیر مسلح کرنے کا اسرائیلی ہدف اب بھی برقرار ہے، انہوں نے اس ضمن میں امریکی صدر کی براہ راست شرکت اور لبنانی حکومت پر دباؤ کے ذریعے سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کا بھی ذکر کیا۔

قبل ازیں اسرائیلی عسکری ادارے کے اندر سے آنے والی رپورٹس میں جنوبی لبنان میں ایک سکیورٹی پٹی قائم کرنے کے منصوبے کی بات کی گئی تھی، تاہم قابض فوج نے اس وقت سرکاری طور پر اس کی تردید کی تھی اور اب بھی وہ جنگ کے بعد کسی مستقل سکیورٹی زون کے قیام کے فیصلے کی نفی کر رہی ہے۔

گذشتہ دنوں اخبار ہارٹز نے عسکری ذرائع کے حوالے سے نقل کیا تھا کہ قابض فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی کو دوگنا کرنے اور مستقل ٹھکانے بنانے پر کام کر رہی ہے، یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو بار بار کی سرکاری تردید کے باوجود عملاً ایک سکیورٹی پٹی کے نفاذ کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

ذرائع کا اندازہ ہے کہ قابض اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں بالکل وہی طریقہ کار اپنا رہی ہے جو اس نے غزہ کی پٹی میں اختیار کیا ہے، جس میں گھروں کی مسماری، سرحدی علاقوں کو آبادی سے خالی کرانا اور ایک نیا سکیورٹی جبر نافذ کرنا شامل ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan