بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں پیر کے روز متعدد مقامات پر دھماکے اور توپ خانے سے گولہ باری کی، جبکہ کئی قصبوں اور دیہات میں گھروں اور شہری املاک کو منظم طریقے سے نذرِ آتش کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق دوپہر کے وقت اسرائیلی فوج نے مرجعیون ضلع کے علاقے میس الجبل کے مغربی مضافات میں واقع حوشین کے علاقے میں پیش قدمی کی، جبکہ اسی دوران علاقے میں ایک گھر کو توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی (NNA) کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ضلع نباطیہ میں کفر تبنیت اور ارنون کے درمیان واقع علاقے میں ایک بڑا دھماکہ کیا۔
لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج صبح سے ہی خیام شہر میں گھروں کو آگ لگا رہی ہے اور شہر کے اندر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران شدید مشین گن فائرنگ بھی کی گئی، جس کے نتیجے میں علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی فوج نے رات کے دوران ضلع صور کے قصبے منصوری پر توپ خانے سے گولہ باری کی، جبکہ پیر کی صبح وادی السلوقی کی جانب مشین گنوں سے فائرنگ کی۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب اسرائیلی توپ خانے نے علی الطاہر کی پہاڑیوں، دبشہ پہاڑی کے اطراف اور دوحہ کفر رمان کے علاقوں کو متعدد مرتبہ شدید گولہ باری کا نشانہ بنایا۔
پیر کی صبح اسرائیلی فوج نے ضلع نباطیہ کے قصبے زوطَر الشرقیہ میں بھی ایک بڑا دھماکہ کیا، جبکہ مرجعیون ضلع کے بنی حیان پر توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ڈرون طیاروں نے دارالحکومت بیروت اور اس کے جنوبی مضافاتی علاقوں کی فضاؤں میں بھی پروازیں کیں۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ سے 9 اگست تک لبنان پر اسرائیلی فوجی حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 4,335 افراد شہید جبکہ 12,277 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج امریکہ کی نگرانی میں واشنگٹن میں طے پانے والے کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں دھماکوں، گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر بدستور قبضہ بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان میں کچھ علاقے ایسے ہیں جن پر اسرائیل کئی دہائیوں سے قابض ہے، جبکہ بعض علاقوں پر 2023ء اور 2024ء کے دوران ہونے والی جھڑپوں کے بعد قبضہ کیا گیا۔ موجودہ فوجی کارروائی کے دوران بھی اسرائیلی افواج نے لبنانی سرزمین کے اندر 10 کلومیٹر سے زائد تک پیش قدمی کی ہے۔