جنوبی لبنان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ کے قصبے ’نبطیہ الفوقا‘ میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں چار افراد شہید ہو گئے۔
نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق، ’نبطیہ الفوقا‘ میں ’یوسف شمون‘ سرکاری سکول کی پرنسپل اسپرانزا غندور، اپنی والدہ، اپنی غیر ملکی ملازمہ اور ایک شامی کارکن کے ہمراہ قصبے میں واقع اپنے خاندانی گھر کا معائنہ کرنے گئی تھیں۔ واپسی کے دوران، دار المعلمین (ٹیچرز ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ) کے قریب ایک اسرائیلی ڈرون نے ان کی گاڑی کو ایک گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ سب کے سب موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
اسی دوران اسرائیلی ڈرونز نے ’نبطیہ الفوقا‘ اور ’کفرتبنیت‘ قصبوں پر مزید دو فضائی حملے کیے۔
ایک اور پیش رفت میں جنوبی لبنان میں المیادین کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے بنت جبیل شہر اور اس کے ضلع کے قصبے ’کونین‘ میں دو الگ الگ دھماکوں کے ذریعے عمارتوں کو تباہ کر دیا۔
قابض اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جس میں جنگی طیاروں اور ڈرونز کے ذریعے فضائی حملے، شہریوں پر کواڈ کاپٹر سے بم گرانا، توپ خانے کی گولہ باری اور دیہاتوں میں بارودی سرنگوں کے ذریعے تباہی مچانا شامل ہے۔ ان کارروائیوں سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جس کی سب سے بڑی مثال ’مجدل زون‘ قصبے میں کیا گیا دھماکہ ہے جس نے پورے قصبے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب لبنان اور قابض اسرائیل کی حکومتوں نے گذشتہ ماہ واشنگٹن میں امریکی ثالثی میں ایک ’فریم ورک معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔
دوسری جانب، لبنان میں ’اسلامی مزاحمت‘ (حزب اللہ کا عسکری ونگ) نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسے اپنے وطن اور اپنے عوام کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
