غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) “تمہاری خاموشی ایک عار ہے” کے درد و الم سے بھرپور ہیش ٹیگ کے تحت سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک طوفانی اور وسیع ڈیجیٹل مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ مہم غزہ کی پٹی پر مسلط اس ہولناک اور سنگین انسانی المیے کے خلاف ایک گرجدار احتجاج ہے، جہاں سانسوں کی ڈور ٹوٹ رہی ہے، مصائب کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور امدادی سامان، ریسکیو آپریشنز اور اجڑے ہوئے گھروں کی تعمیرِ نو کی راہیں بند کر دی گئی ہیں۔
اس مہم کے بانیان کا عزم ہے کہ وہ ”امن کونسل“ اور ”غزہ انتظامی کمیٹی“ کو ان کے غفلت کدوں سے جگائیں اور انہیں اس بات پر مجبور کریں کہ وہ غزہ کے مظلوم اور بے کس باسیوں کے تئیں اپنی انسانی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پہچانیں، بالخصوص اس وقت جب فوری انسانی اور امدادی پکار ہر سو گونج رہی ہے۔
اس بیدار کن مہم کے ہراول دستے نے دنیا بھر کے باضمیر انسانوں اور سوشل میڈیا کے سورماؤں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس ہیش ٹیگ کے پرچم تلے متحد ہو جائیں۔ وہ اس درد ناک پیغام، ویڈیوز اور دل دہلا دینے والے ڈیزائنز کو دیس دیس پھیلائیں، تاکہ دنیا کے ایوانوں میں فلسطینیوں کی سسکیوں کی گونج سنائی دے اور ان کی مظلوم آواز آخری سرہدوں تک پہنچ سکے۔
فوری انسانی پکار اور کرب کی داستانیں
اس مہم کا مرکزی نقطہ انسانیت کا وہ لرزہ خیز ماتم ہے جو غزہ کے باسیوں کے مقسوم بن چکا ہے۔ آج وہاں زندگی ہر لمحہ موت کے سائے میں بسر ہو رہی ہے۔رہنے کو چھت ہے، نہ ملبہ ہٹانے کے لیے کوئی مشینری ، خیمے ہیں اور نہ ہی اس کٹھن موسم میں پناہ کا کوئی سامان!
مہم کے درد مند شرکاء نے شہرِ غزہ کے دل میں واقع ”السعادہ“ عمارت کے ملبے سے ایک معصوم بچے کی لاش یا سانسوں کو تلاش کرنے کے لرزہ خیز مناظر کو پیش کیا۔ یہ تصویر خود ایک گہرا مرثیہ ہے جو غزہ کے اس کربناک المیے کو بیان کرتا ہے جہاں زندگی سسک رہی ہے اور ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے کے لیے محض بے بس انگلیاں باقی رہ گئی ہیں۔
مہم نے اس نام نہاد اور کھوکھلے ”ٹرمپ پلان“ کے سفر اور ”امن کونسل“ کی کارکردگی پر بھی کاری ضرب لگائی ہے، جو صفر کارکردگی دکھاتی ہے، جبکہ دوسری طرف زخموں سے چور انسان تڑپ رہے ہیں اور امداد و تعمیرِ نو کے دروازے بند ہیں۔
عرب اور عجم کے بیدار دل کارکنان نے اس ہیش ٹیگ کو اپنے خونِ جگر سے سینچا ہے۔ ویڈیوز، بصری شاہکار اور دلوں کو چیر دینے والی تحریریں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ دنیا کتنی ہی بے حس کیوں نہ ہو جائے، غزہ کے حمایتی کبھی خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ہر طرف سے انفلونسرز اور باضمیر انسانوں کو پکارا جا رہا ہے کہ وہ اس مہم کا حصہ بنیں تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔
”تمہاری خاموشی ایک عار ہے“.. دلوں کے اندر سے اٹھتی ہوئی سسکیاں
سوشل میڈیا کی فضاؤں میں گونجتی ان آوازوں نے دنیا کی اس مجرمانہ خاموشی کو تار تار کر دیا ہے۔ کارکنان کا یہ ماننا ہے کہ یہ خاموشی کوئی نیوٹرل پن نہیں بلکہ خون کی دلال ہے۔
حنظلہ سالم نامی ایک باضمیر کارکن نے اپنے فیس بک کے دائرے میں لکھاکہ ”ملبے تلے دبی معصوم جانوں اور سسکتے بچوں کے سامنے یہ عالمی خاموشی دراصل غزہ کے قتلِ عام پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہم اس مہم کو اس وقت تک نہیں تھمنے دیں گے جب تک دنیا کا ہر ضمیر بیدار نہ ہو جائے۔“
فرح محمود پکار اٹھیں: ”#صمتكم_عار کا یہ شور اس وقت بلند ہوا ہے جب غزہ کی رگوں سے مسلسل خون بہہ رہا ہے۔ اس درد کے طوفان میں خاموش رہنا منافقت ہے۔ ہمارے لوگوں کو محض ہمدردی نہیں، حقیقی بازوؤں کی ضرورت ہے۔“
حفص نے اس ظلم پر اپنے دل کا غبار نکالتے ہوئے کہا کہ خاموشی کا یہ عالم گناہِ عظیم ہے۔ رولا أبو ضلفہ کہتی ہیں کہ غزہ کو اس دنیا میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، اور یہ بے بسی پوری انسانیت کے ماتھے پر ایک انمٹ کالک ہے۔
محمود عمار نے درد بھرے لہجے میں سوال کیاکہ ”آخر کب تک یہ خاموشی برقرار رہے گی؟ کب تک گھر اجڑتے رہیں گے اور اپنوں کی لاشیں اٹھتی رہیں گی؟ غزہ کو محض سیاست کی نظر سے نہیں، بلکہ انسانیت کی آنکھ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔“
محمد أبو وطفة نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اس عالمی خاموشی نے ہی ظالم کو اور زیادہ درندہ بنا دیا ہے۔
#صمتكم_عار کا یہ طوفان اس بات کا غماز ہے کہ غزہ کی پٹی میں جب تک آخری سانس اور آخری دھڑکن باقی ہے، مظلوموں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ فلسطینی، عرب اور دنیا بھر کے حریت پسند اس ڈیجیٹل محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں تا کہ اس دنیا کو بتلا سکیں کہ سچائی کبھی مٹائی نہیں جا سکتی۔
