Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

تشدد میں ملوث آباد کاروں کو حکومتی فنڈنگ کا انکشاف، شدید ردعمل

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی میڈیا کی جانب سے ایک ایسی حکومتی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں سرگرم انتہا پسند یہودی آباد کار گروہوں کو بھاری فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں حالانکہ ان پر فلسطینیوں اور ان کی املاک پر مسلسل حملے کرنے کے سنگین الزامات ہیں۔

عبرانی ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ قابض حکومت نے ’شبیبہ التلال‘ نامی انتہا پسند تنظیم کے عناصر کے لیے مالی معاونت مختص کی ہے۔ اس امداد میں ہر یہودی آباد کار کو خوراک اور کپڑے خریدنے کے لیے روزانہ پچاس شیکل کے کوپن دیے جاتے ہیں۔ قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ پروگرام تشدد کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی وزارتِ آباد کاری کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں اس منصوبے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یہ تنظیم مغربی کنارے میں فلسطینی زمینوں پر قبضے اور بدو برادریوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کرنے میں بدنام ہے جس کے لیے وہ مسلسل حملوں کا سہارا لیتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اس منصوبے پر سنہ 2026ء کے اختتام تک 55 لاکھ شیکل کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔ یہ رقوم مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں کی علاقائی کونسلوں اور قبضے میں لی گئی فلسطینی زمینوں پر بنی چوکیوں کے ذمہ داروں کو منتقل کی جائیں گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس پروگرام سے استفادہ کرنے والے یہودی آباد کاروں کی تعداد 657 ہے جو مغربی کنارے کے مختلف علاقوں بشمول رام اللہ، نابلس، وادی اردن، جبل الخلیل اور جنوبی بیت لحم میں پھیلے ہوئے ہیں۔

یہ رپورٹ نشاندہی کرتی ہے کہ خوراک اور لباس کے لیے دی جانے والی یہ مراعات اس وسیع تر حکومتی منصوبے کا حصہ ہیں جس کا کل بجٹ 12 کروڑ شیکل ہے اور اس پر قابض فوج، محکمہ تعلیم اور وزارتِ آباد کاری سمیت کئی وزارتی محکمے مشترکہ طور پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔

وزارتِ آباد کاری جس کی سربراہی وزیر اوریت سٹرک کر رہی ہیں وہ یہودی بستیوں کے اندر اضافی منصوبوں کی فنڈنگ کر رہی ہے جبکہ قابض وزارتِ دفاع ایسے پروگراموں کی حمایت کر رہی ہے جن کا مقصد ’شبیبہ التلال‘ کے عناصر کو فوجی سروس میں شامل ہونے کی ترغیب دینا ہے۔

دوسری جانب ’وائی نیٹ‘ نے قابض اسرائیلی سکیورٹی حلقوں کے حوالے سے اس منصوبے پر تنقید نقل کی ہے جن کا ماننا ہے کہ حکومت ان عناصر کے خلاف قانون نافذ کرنے سے گریز کر رہی ہے باوجود اس کے کہ وہ فلسطینیوں حتیٰ کہ قابض اسرائیلی فوج کے خلاف بھی متعدد حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔

اس تناظر میں قابض فوج کے سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایوی بلوط نے گذشتہ ماہ یہودی آباد کاروں کی جانب سے تشدد میں اضافے کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالات ایک بڑی تباہی سے صرف ایک قدم کی دوری پر ہیں۔

قابض اسرائیلی حکومت اس پروگرام کا یہ کہہ کر دفاع کر رہی ہے کہ اس کا مقصد نوجوان یہودی آباد کاروں کو ایک تعلیمی اور سماجی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے سے روکا جا سکے اور سرکاری اداروں کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط کیا جا سکے۔

یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ نے سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک ایک ہزار سے زائد ایسے حملوں کو دستاویزی شکل دی ہے جن کا نشانہ سیکڑوں فلسطینی بستیاں بنیں اور جن کے نتیجے میں فلسطینیوں کو شدید زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی املاک اور ذریعہ معاش کو بھاری نقصان پہنچا۔

اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے ماتحت آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے نو جون سنہ 2026ء کو جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملوں کے دوران یہودی آباد کاروں کو مالی و عسکری معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں براہِ راست تحفظ بھی دے رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan