مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مغرب میں بسنے والے بیت إكسا کے اس جاں نثار گاؤں میں مظلوم باسیوں کے مصائب اب چیک پوسٹوں اور قید و بند کی عام حدوں کو چیر کر آگے نکل آئے ہیں۔ یہ اب ایک ایسا تلخ اور روزمرہ کا عذاب بن چکا ہے جو ہر فلسطینی کے سامنے موت یا ذلت کے کٹھن راستے رکھ دیتا ہے۔ یہاں کچھ ایسے بدقسمت شہری بھی ہیں جنہیں اپنے ہی آشیانوں کی دہلیز پر پاؤں رکھنے سے درندگی سے روک دیا گیا ہے اور کچھ ایسے مجبور انسان ہیں جنہوں نے گاؤں کی چار دیواری کے اندر ہی محصور رہنا قبول کر لیا ہے اس خوف سے کہ باہر قدم رکھتے ہی ان پر واپسی کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند نہ کر دیے جائیں۔
مسلسل دوسرے ہفتے قابض اسرائیل نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے بیت إكسا کے تیرہ معصوم شہریوں کو ان کے اپنے گھروں کی ٹھنڈی چھاؤں سے محروم کر رکھا ہے۔ اس کی سفاکانہ دلیل یہ تراشی گئی ہے کہ ان بدنصیبوں پر ظالمانہ سکیورٹی پابندیاں مسلط ہیں اور گاؤں میں داخلے کا پروانہ دینے سے صریح انکار کر دیا گیا ہے۔ ادھر 19 مظلوم شہری اب بھی اسی قفس کے اندر محصور ہیں کیونکہ انہوں نے باہر کی دنیا کا رخ کرنے سے توبہ کر لی ہے اس اندیشے میں کہ غاصب دشمن انہیں دوبارہ اپنوں کے پاس لوٹنے کی اجازت نہیں دے گا۔
یوں یہ 32 بے گناہ انسان خود کو ممنوعات اور خوف کے تند و تیز بھنور میں پھنسا ہوا پاتے ہیں۔ ان میں ایک قافلہ اپنے ہی گھر کے باہر بے بسی کی تصویر بنا کھڑا ہے جو اپنے اہل خانہ کے گلے ملنے سے محروم ہے اور دوسرا قافلہ اندر بیٹھ کر ہر لمحہ یہ سسکتی ہوئی سچائی محسوس کر رہا ہے کہ اس دھرتی سے باہر قدم رکھنا ان کے حقِ واپسی کی چتا جلانے کے مترادف ہے۔
چوکیوں کے پیچھے گم ہوتا اپنا گھر
اپنے ہی گھروں سے بیدخل ہونے والے ان مظلوموں کے لیے قابض دشمن کی ظالمانہ کارروائیاں صرف نقل و حرکت پر قدغن تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ان کے پیاروں، ان کے دامنِ محبت اور ان کی پرسکون حیات کے مرکز تک رسائی کو بھی چھین لیتی ہیں۔ جہاں تک ان پروانوں کا تعلق ہے جو اب بھی بیت إكسا کے اندر قید ہیں تو ان کے لیے اس بستی سے باہر قدم رکھنا موت کو دعوت دینے کے مترادف بن چکا ہے خواہ وہ دو وقت کی روٹی کے لیے ہو، کسی غمگین رشتہ دار کی عیادت کے لیے ہو یا زندگی کی انتہائی ناگزیر ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ہو۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کربناک حقیقت کے سائے میں اب یہ سفاک چیک پوسٹیں اس بات کی مالک بن بیٹھی ہیں کہ کون اس بستی میں سانس لے سکتا ہے اور کون باہر دھکیلا جا سکتا ہے، کون اپنے پیاروں کے سینے سے لگ سکتا ہے اور کون در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس طرح مکینوں کی روزمرہ سانسیں بھی ایک لرزہ خیز انتظار اور دائمی اذیت کا ماتم بن جاتی ہیں۔
ظالم قابض حکام مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مغرب میں واقع اس درماندہ قصبے بیت إكسا کے شجاع نوجوان محمد زید الکسوانی کو مسلسل دوسرے ہفتے ان کے آبائی گھر کی خوشبوؤں سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ اس بربریت کا جواز یہ گھڑا گیا ہے کہ ان کے نام پر سیاہ سکیورٹی پابندی کی تلوار لٹک رہی ہے۔
وہ الکسوانی کو ان کی اپنی دھرتی اور گھر کی دہلیز تک پہنچنے کا ایک ادنیٰ سا پروانہ دینے سے بھی انکاری ہیں تاکہ ان کی واپسی کا ہر راستہ مسدود کیا جا سکے، اور یہ سب کچھ ان جابرانہ ہتھکنڈوں کے تسلسل میں ہو رہا ہے جو قابض غاصب بیت إكسا کے باسیوں پر مسلط کیے ہوئے ہیں تاکہ ان کے جینے کا حق اور ان کے گھروں تک پہنچنے کی ہر رمق کو روند ڈالا جائے۔
محاصرہ جو زندگی کی ہر سانس کو جکڑ رکھا ہے
ظلم و ستم کا یہ سیاہ جال صرف آنے جانے کی پابندیوں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ ان کے رزق کے ذرائع، ان کے باہمی رشتوں کی ڈور اور ان کی سسکتی ہوئی صحت کے درمان کو بھی اپنی لپیت میں لے لیتا ہے۔ کئی بے بس انسانوں کو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے کام پر جانے سے اس خوف سے محروم کر دیا گیا کہ کہیں وہ گاؤں سے نکلے اور پھر کبھی اپنوں کے پاس واپس نہ آ سکے۔ دوسری طرف باہر کے رشتہ داروں سے میل ملاقات بھی اب اس شقی القلب حاجز سے اجازت ملنے کی شرط سے مشروط ہو چکی ہے۔
اس تاریک ماحول میں انسانی جان اور صحت کی حفاظت سب سے بڑا المیہ بن کر ابھرتی ہے جہاں کسی کو بھی اگر اچانک دو دوا یا علاج کی ضرورت پڑ جائے تو وہ موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ علاج کے لیے اس قفس سے باہر نکلنا گویا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے برابر ہے کیونکہ اس کے بعد گھر کی دہلیز پر لوٹنا اب خواب بن چکا ہے۔
یوں یہ گھنائونا محاصرہ ایک اعلانیہ سکیورٹی ڈرامے سے نکل کر ایک ایسا روح فرسا دباؤ بن جاتا ہے جو فلسطینی انسان کے رزق، شفا اور خاندانی سکون کی سانسوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے اور مکینوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ زندگی کی ادنیٰ ترین ضرورت کو بھی کسی بڑے خطرے یا مصیبت کی بھٹی میں جھونک دیں۔
اجازت ناموں کی غلامی میں جکڑی ایک بستی
بیت إكسا کی یہ ہولناک داستان قابض دشمن کی اس استبدادی پالیسی کو بے نقاب کرتی ہے جو چیک پوسٹوں، اجازت ناموں اور آہنی بندشوں کے بل بوتے پر چلتی ہے تاکہ فلسطینی بستیوں کو الگ تھلگ جزیروں میں بدل دیا جائے جن کے دروازوں کی چابیاں صیہونی درندوں کے ہاتھ میں ہوں۔
اپنے ہی گھر اور اپنی ہی مٹی تک پہنچنے کے لیے اب انسانوں کو دشمن کے دربار سے بھیک مانگنی پڑتی ہے، جبکہ انسان کا اپنا گھر جو اس کی روح کا سکون اور زندگی کا قدرتی گہوارہ ہونا چاہیے تھا، دشمن کے ایک قلمی حکم سے ایک ایسا ممنوعہ علاقہ بن جاتا ہے جہاں مالکوں کا داخلہ جرم قرار پاتا ہے۔
یہ دردناک کہانیاں مغربی کنارے کے کسی دوسرے مظلوم قصبے یا اجڑے ہوئے کیمپ کی داستان سے ذرا بھی الگ نہیں ہیں جہاں ہر طرف سکیورٹی نادے، فوجی بیریکیڈز اور آہنی دروازے انسانیت کا مذاق اڑا رہے ہیں، اور فلسطینیوں کا ہر سانس لینا بھی دشمن کی کٹھ پتلی چالوں کا محتاج ہو چکا ہے۔
اس مکروہ نظام کے زریعه فلسطینیوں کے یہ خونی رشتے اور باہمی رابطے پاش پاش کیے جا رہے ہیں، اور تعلیم، رزق، علاج اور محبت کے تمام سرچشمے ان ظالم ہاتھوں میں دے دیے گئے ہیں جن پر مظلوموں کا کوئی اختیار نہیں۔
بیت إكسا سے پورے مغربی کنارے تک کا نوحہ
بیت إكسا دراصل مغربی کنارے کے ان تمام شہروں اور بستیوں پر گزرنے والی قیامت کا ایک استعارہ ہے جہاں گلا گھونٹنے کے لیے کسی باقاعدہ کرفیو کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ یہ خونی جال چیک پوسٹوں، بند دروازوں اور ظالمانہ سکیورٹی حصار کی صورت میں بچھا دیا جاتا ہے تاکہ مکینوں کا ہر قدم کانٹوں کی سیج بن جائے۔
اس اندھیر نگری میں محاصرے کا اثر صرف بستی کے دروازے پر دم نہیں توڑتا بلکہ یہ ہسپتالوں کے بیڈز، یونیورسٹیوں کے احاطوں اور ماؤں کی گودوں تک جا پہنچتا ہے تاکہ زندگی کی معمولی ترین خوشی بھی دشمن کے خلاف ایک روزانہ کی طویل اور تھکا دینے والی جنگ بن جائے۔
جب یہ سفاکانہ ہتھکنڈے یونہی جاری رہتے ہیں تو باسیوں کے سینوں میں خوف کا دائرہ اور زیادہ تنگ ہو جاتا ہے، اور دو وقت کی روٹی کمانا، بیمار کا علاج کرانا یا کسی غمگین سے ملنا بھی انہونی تمنا بن جاتا ہے کیونکہ ہر طرف خوف کے سائے ناچ رہے ہوتے ہیں۔
روزمرہ کی زندگی کا جاری قتلِ عام
بیت إكسا کی اس مٹی پر ہر سو مظلومیت سسکتی دکھائی دیتی ہے؛ کوئی ماں اپنے لعل کے انتظار میں بیٹھی ہے جسے گھر آنے سے روک دیا گیا ہے، کوئی باپ اس خوف سے گھر میں قید ہے کہ باہر نکلا تو دردر کی ٹھوکریں مقدر بن جائیں گی، کوئی مزدور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے تڑپ رہا ہے مگر قابض فوج اسے رزق کمانے سے روکتی ہے، اور کوئی بیمار موت کے منہ میں ہے مگر حاجز کی نحوست اس کے علاج کی راہ میں حائل ہے۔
واپسی پر پابندی اور پابندی کے اس نہ ختم ہونے والے خوف کے درمیان ان معصوم باسیوں کی زندگیاں توازن کھو بیٹھتی ہیں اور ان کا اپنا گھر ایک خواب اور دھرتی پر آزادی سے چلنا ایک جرم بن جاتا ہے۔
اس بستی کی درد بھری داستان صرف یہاں کے باسیوں کا ماتم نہیں ہے بلکہ یہ اس پورے مغربی کنارے میں سسکتی ہوئی فلسطینی حیات کا مرثیہ ہے جہاں سانس لینا، کام کرنا، شفا پانا اور اپنوں سے ملنا سب کچھ قابض دشمن کی شیطانی مرضی کا غلام بن چکا ہے۔
جب تیرہ خاندانوں کے لعل اپنے ہی گھروں سے کوسوں دور دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہوں اور انیس باسی اس خوف سے قیدار ہوں کہ باہر نکلتے ہی اپنوں کی چھاؤں چھن جائے گی، تو ایسے میں بیت إكسا ظالم کی بربریت اور مظلوم کے صبر کی ایک ایسی لازوال داستان بن جاتی ہے جہاں گھر کی طرف لوٹنے والا ہر راستہ کسی کربلا سے کم نہیں ہوتا ہے۔
