Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

برطانوی وزیرِ اعظم کا اعتراف، غزہ کے مصائب پر ردعمل میں تاخیر ہوئی

لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانوی وزیرِ اعظم اینڈیپیر نهام نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت نے قابض اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اقدامات کا ایک ایسا پیکیج تیار کیا ہے جس میں بستیوں کی مصنوعات کی تجارت پر پابندی، بستیوں کی حمایت یا ان کی سرگرمیوں کو آسان بنانے والے افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنا شامل ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک سرکاری مؤقف کا اعلان بھی کیا گیا ہے جس کے تحت فلسطینی سرزمین پر قابض اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

“گارڈین” اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اینڈی پیرنهام نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قدم ان کی طرف سے قابض حکومت کے خلاف اقدامات اٹھانے میں طویل تردید کے بعد اٹھایا گیا ہے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دو ریاستی حل کا مطالبہ اس وقت تک “بے معنی اور کھوکھلا” رہتا ہے جب تک اسے ٹھوس عملی اقدامات کی پشت پناہی حاصل نہ ہو۔

اینڈی پیرنهام نے اعتراف کیا کہ غزہ پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر برطانیہ کا ردعمل “انتہائی سست اور قطعی ناکافی” تھا اور انہوں نے قابض دشمن کی جارحیت کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور انسانی جانوں کے ضیاع کے حجم کی طرف اشارہ کیا۔

اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانوی اقدامات

برطانوی نئے پیکیج میں تین اہم اقدامات شامل ہیں جن میں سے پہلا اقدام فلسطینی سرزمین پر قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی تجارت پر پابندی لگانا ہے اور دوسرا اقدام برطانوی حکومت کے سرکاری مؤقف میں تبدیلی لانا ہے جس کے تحت پہلی بار یہ اعلان کیا گیا ہے کہ فلسطینی سرزمین پر قابض اسرائیل کا قبضہ غیر قانونی ہے ایک ایسا مؤقف جس کے بارے میں پيرنهام کا کہنا تھا کہ یہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے نتائج سے آزاد ہے لیکن اس کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

لندن نے ان افراد اور کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو بستیوں کی حمایت کرتی ہیں، ان کے کام کو آسان بناتی ہیں یا ان سے منافع کماتی ہیں جن میں “ای ون” نامی بستی کے پراجیکٹ میں حصہ لینے والے کمپنیاں اور سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔

غزہ میں تباہی کے حجم پر صدمہ

اینڈی پيرنهام نے غزہ پٹی میں ہونے والی انسانیت سوز تباہی کے تناظر میں اپنی حکومت کے اس روئے میں تبدیلی کی توجیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پٹی میں ہونے والی تباہی کے حجم کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے جہاں ستر ہزار سے زائد افراد جن میں کم از کم بیس ہزار بچے بھی شامل ہیں شہید ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور خاندان بکھر چکے ہیں جبکہ اس دوران غزہ کے باسی پٹی کے صرف ایک تہائی رقبے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے یہ مصائب دنیا کے ماتھے پر ایک “بدنما داغ” ہیں جبکہ اس دوران بے گناہ شہریوں اور بچوں کا قتل عام جاری ہے اور انسانی بحران بدتر سے بدتر ہوتا جا رہا ہے جبکہ پٹی کے اندر انتہائی محدود مقدار میں امداد داخل ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: “میں اس وقت تک ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھوں گا جب تک یہ ہولناک مصائب بڑھتے رہیں گے اور دو ریاستی حل کے امکانات پر حملے جاری رہیں گے جو خطے میں امن اور استحکام کی سب سے بڑی امید ہے۔”

تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادکاری

برطانوی وزیرِ اعظم نے مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کی تیز رفتار توسیع پر خبردار کیا اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اسرائیلی حکومت نے دسمبر سنہ 2022ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک ایک سو چار نئی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے “ای ون” پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کرنے کی طرف بھی اشارہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس کے نفاذ سے مغربی کنارے کے قلب میں ایک راہداری بن جائے گی جو ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو سبوتاژ کر دے گی اور اس طرح دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ رواں برس کے دوران یہودی آباد کاروں کی طرف سے تشدد کے پندرہ سو سے زیادہ واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں جن کا مقصد فلسطینیوں کو زبردستی نکالنا ہے اور انہوں نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال “بڑی تیزی سے ابتر ہوتی جا رہی ہے۔”

ہم اسرائیلی عوام کو سزا نہیں دے رہے

اینڈٰی پیرنهام نے اس بات کی تصدیق کی کہ برطانوی اقدامات کا ہدف اسرائیلی عوام نہیں ہیں بلکہ “اسرائیلی حکومت کی ناقابلِ قبول پالیسیاں” ہیں اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لندن مجموعی طور پر اسرائیل پر پابندیاں عائد نہیں کر رہا۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کا حملہ “غزہ یا مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا ہرگز جواز فراہم نہیں کرتا۔”

انہوں نے کہا کہ ان نئے اقدامات کا مقصد اسرائیلی حکومت پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنا راستہ بدلے اور دو ریاستی حل کے امکانات کو تحفظ فراہم کرے جو فلسطینی اور اسرائیلی دونوں عوام کو امن و امان کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برطانیہ میں مقبوضہ یہودی برادری پر بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کی پالیسیوں کی ذمہ داری عائد کرنے سے گریز کیا جائے اور انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی حکومت یہود دشمنی کا مقابلہ کرنے اور یہودی برادری کے افراد کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan