دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے کہا ہے کہ جماعت قابض اسرائیل کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹز کی طرف سے تحریک کے سربراہ خلیل الحیہ کو قتل کرنے کی دھمکیوں کو پوری سنجیدگی سے لے رہی ہے، اگرچہ وہ اس بات کا پورا ادراک بھی رکھتی ہے کہ یہ دھمکیاں صیہونی انتخابی مہم کے سیاق و سباق میں دی جا رہی ہیں۔
باسم نعیم نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں وضاحت کی کہ انتہا پسند صیہونی دائیں بازو کے رہنما انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ’’ہر طرف موت پھیلانے‘‘ کا مقابلہ کر رہے ہیں جو کہ مزاحمتی قیادت کو نشانہ بنانے کی بڑھتی ہوئی صیہونی دھمکیوں کی طرف اشارہ ہے۔
باسم نعیم نے یسرائیل کاٹز کو مخاطب کرتے ہوئے کہان کہ’’کیا تو ہمیں اس چیز کی دھمکی دے رہا ہے جس کے لیے ہم دن رات رب کے حضور دعائیں مانگتے ہیں؟ یعنی شہادت؟ تیری یہ کوشش ناکام و نامراد ہو چکی ہے‘‘۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نصرت و آزادی کے حصول تک اپنے طے شدہ راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ گامزن رہے گی۔
’حماس‘ کے رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ صیہونی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا اس حقیقت کی نفی نہیں کرتا کہ ان کا تعلق صیہونی انتخابی حساب کتاب سے ہے، جس کے ذریعے انتہا پسند دائیں بازو کے رہنما سیاسی مفادات اور انتخابی فائدے حاصل کرنے کے لیے تناؤ کو بڑھانے اور ٹارگٹ کلنگ کی دھمکیوں کو استعمال کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔
