Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

رام اللہ

ایتمار بن گویر کی فلسطینی قیدی خواتین کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انتہا پسند اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے رام اللہ کے شمال مغرب میں واقع بستی گیوات زئیو کے قریب عوفر ہسپتال پر دھاوا بول کر ایک فلسطینی اسیر خاتون پر حملہ کیا، جو ہسپتال کے اندر اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

ایک ویڈیو کلپ میں بن گویر کو اسیر خاتون کی طرف کے حالات کے بارے میں کی جانے والی شکایات کا جواب دیتے ہوئے یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ: “کھانا اچھا نہیں ہونا چاہیے، یہ کوئی ہوٹل نہیں ہے” یہ بات اس خاتون کی طرف سے اسیر خواتین کو فراہم کیے جانے والے خراب کھانے، صاف پانی کی عدم دستیابی اور انہیں کھلی ہوا میں نکلنے سے محروم رکھنے کے بارے میں بات کرنے کے بعد کہی گئی، جو کہ قیدی خواتین کو فراہم کیے جانے والے انتہائی کم ترین حقوق ہیں۔

اسیر خاتون پر حملہ کرتے ہوئے بن گویر نے دہرایا کہ “جو لوگ برے کام کرتے ہیں انہیں اس کے بارے میں سوچنا چاہیے جو انہوں نے کیا، اور جو جرم کرتا ہے اسے سبق سیکھنا چاہئے، خاص طور پر اگر یہ جرم اسرائیل کے لوگوں کے خلاف ہو”، اس کے بیان کے مطابق، اور اس کے کسی بھی جرم کے ارتکاب سے انکار کرنے کے باوجود، اس نے اس پر حملہ جاری رکھتے ہوئے کہاکہ “یہ کوئی ہوٹل نہیں ہے.. ماضی میں یہ ایک ہوٹل تھا.. اور اب ایسا نہیں رہا”۔

بن گویر کے یہ بیانات فلسطینی اسیران اور اسیر خواتین کے خلاف ان کی طرف سے اپنائی جانے والی سختی کی پالیسی کے تناظر میں آتے ہیں، جس میں اسرائیلی جیلوں کے اندر سخت اقدامات کا ایک سلسلہ شامل ہے۔

حالیہ عبرانی رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ انتہا پسند بن گویر کی سرپرستی میں میڈیا میں “مگر مچھوں کی جیل” کے نام سے مشہور ایک متنازع منصوبے کے تحت النقب کے صحرا میں “کستسیعوت” جیل میں فلسطینی قیدیوں کے وارڈز کے ارد گرد مگر مچھوں کے لیے پانی کی خندقیں کھودنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

کلب برائے اسیران نے اپنی ایک سابقہ رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض صہیونی عقوبت خانے میں دجنوں فلسطینی اسیر خواتین انتہائی المناک حالات میں زندگی گزار رہی ہیں، جن میں منظم بھوک، نازیبا تلاشی اور جان بوجھ کر طبی غفلت برتنا شامل ہے، خاص طور پر بیمار اور حاملہ اسیر خواتین کے معاملے میں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan