Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

انصار اللہ: صومالی لینڈ میں کسی بھی اسرائیلی ٹھکانے کو نہیں چھوڑیں گے

صنعا – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یمن میں انصار اللہ گروپ کے سربراہ عبد الملک الحوثی نے دھمکی دی ہے کہ وہ صومالی لینڈ کے علیحدگی پسند علاقے میں قابض اسرائیل کے کسی بھی ٹھکانے کو “ہر ممکن طریقے سے” نشانہ بنائیں گے۔

الحوثی نے گروپ کے ٹیلی ویژن چینل ‘المسیرہ’ پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو خطاب میں کہا کہ ان کا گروپ صومالی لینڈ کی صورتحال کا گہری نظر سے جائزہ لے رہا ہے، جہاں دشمن خلیج عدن، باب المندب اور بحیرہ احمر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اپنا قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے امت مسلمہ اور بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے سے روکنے کے لیے مشترکہ موقف اپنائیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یمن صومالی لینڈ میں قابض اسرائیل کے کسی بھی ٹھکانے کے خلاف خاموش تماشائی نہیں بنے گا، اور کہا کہ “ہم بزدلوں کے انتظار میں نہیں رہیں گے، بلکہ جیسے ہی دشمن اپنا کوئی ٹھکانہ قائم کرے گا، ہم ہر ممکن طریقے سے اسے نشانہ بنانے میں پہل کریں گے”۔

انہوں نے حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ صومالیہ کے حالات کو درست کریں، برادر صومالی عوام کا خیال رکھیں اور اسرائیلی دشمن کی ریشہ دوانیوں کے خلاف ان کی حمایت کریں۔

اس ماہ کی 15 تاریخ کو صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے کے سربراہ عبد الرحمٰن محمد عبد اللہ نے قابض اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس میں اپنے خطے کے سفارت خانے کا افتتاح کیا۔

قابض اسرائیل نے دسمبر سنہ 2025ء میں اس علیحدگی پسند خطے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے موغادیشو میں موجود وفاقی حکومت نے مسترد کر دیا تھا، اور اس فیصلے پر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی شدید تنقید کی گئی تھی۔

سنہ 1991ء میں صومالیہ سے علیحدگی کے اعلان کے بعد سے اس خطے کو کبھی کوئی باضابطہ بین الاقوامی تسلیم حاصل نہیں ہوا، اگرچہ وہ انتظامی، سیاسی اور سکیورٹی کے لحاظ سے ایک خود مختار وجود کے طور پر اپنے معاملات چلا رہا ہے۔

اس پیش رفت پر انتباہ سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو اس خطے میں منتقل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جبکہ مصر اور اردن سمیت متعدد علاقائی ممالک پہلے ہی کسی بھی قسم کی جبری نقل مکانی کو سختی سے مسترد کر چکے ہیں۔

امریکہ کی حمایت سے، اسرائیل نے 8 اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ شروع کی جو دو سال تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ انفراسٹرکچر کا 90 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan