تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یہ پروفلسطین بائیں بازو کا طبقہ نہیں تھا، بلکہ پرواسرائیل دائیں بازو کا طبقہ تھا جس نے واشنگٹن میں دونوں پارٹیوں کی متفقہ حمایت کو توڑا۔ اس کا سب سے اہم سال 2015 تھا۔ تب بھی اور اب بھی، اصل مسئلہ ایران ہی تھا۔ جیسے ہی اوباما انتظامیہ نے جوہری معاہدے کے لیے زور دیا، اسرائیل لابی نے ایک انتہائی مقبول ڈیموکریٹک صدر کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ AIPAC نے جوہری معاہدے کے خلاف لابنگ کے لیے تقریباً 40 ملین ڈالر بہا دیے۔ ریپبلکن ہاؤس کے اسپیکر جان بوینر نے صدر کو اطلاع دیے بغیر نتن یاہو کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت دی، جسے طریقہ کار اور بنیادی آداب کی شدید خلاف ورزی اور سیاسی چال سمجھا گیا۔ ڈائس کے پیچھے کھڑے ہو کر، نتن یاہو نے اوباما انتظامیہ کے متوقع معاہدے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ مشرقِ وسطیٰ کو صرف مزید خرابی کی طرف لے جائے گا۔
اسرائیلی لابی کی یہ مہم جوہری معاہدے کو روکنے میں ناکام رہی۔ اس کے بجائے، اس نے اپنے ہی دو طرفہ غیر جانبدارانہ چہرے کے بچے کچھے نقاب کو بھی چاک کر دیا۔ پرواسرائیلی گروپس نے جلد ہی کھلم کھلا ریپبلکن پارٹی کے ایک بازو کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا، خاص طور پر جب یہودی برادری کی تنظیموں نے اکثر امریکی یہودیوں کے خیالات کی نمائندگی کا دکھاوا چھوڑ کر دائیں بازو کے ارب پتی ڈونرز کی ترجیحات کو اپنا لیا۔ ٹرمپ کی پہلی مدت نے اسرائیل کے مسئلے پر اس سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔ انہوں نے ماضی کی تمام انتظامیہ کے مقابلے میں انتہائی سخت اور شدید پرواسرائیل موقف اپنایا۔ واشنگٹن میں پی ایل او کا دفتر بند کر دیا، امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کر دیا، اور گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی تسلط کو تسلیم کر لیا۔ کسی بھی پروفلسطینی کارکن کے مقابلے میں ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے عام ارکان کو اسرائیل سے دور کرنے میں کہیں زیادہ کردار ادا کیا ہے۔
2015ء کا سال اسرائیل کے اپنے سفر میں بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ ایک سخت انتخابی مہم کے دوران، نتن یاہو انتہا پسندی کی طرف مائل نظر آئے۔ انہوں نے اسرائیلی دائیں بازو کے ایک سنجیدہ اور ذمہ دار رہنما کا تاثر چھوڑ کر دنیا بھر میں ابھرنے والے آمریت پسند مقبولیت پر مبنی طرزِ عمل کو اپنا لیا۔ جہاں نتن یاہو پہلے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کی زبانی جمع خرچ کرتے تھے، وہاں وہ اب کھلم کھلا علاقائی توسع پسندی کی طرف مڑ گئے۔
2019 میں بدعنوانی کے الزامات عائد ہونے کے بعد، نتن یاہو اقتدار میں رہنے کی کوششوں میں مزید ناامید ہو گئے۔ انہوں نے اسرائیلی سیاسی زندگی کی انتہائی انتہا پسند قوتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کیے، نہ صرف شائستہ انداز میں سیمی فاشسٹ حاخام مئیر کاہانے کے پیروکاروں اور سخت گیر نظریاتی آباد کاروں کو قبول کیا، بلکہ انہیں اپنی حکومت میں وزراء کے طور پر بھی بااختیار بنایا۔
خود اسرائیل کے اندر جمہوریت کی تنزلی، مغربی کنارے پر گہرے ہوتے ہوئے غاصبانہ قبضے اور غزہ کے محاصرے کے تناظر میں، امریکی لبرلز میں سے اب شاید ہی کوئی یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ ان کے اور اسرائیلی رہنماؤں کے اقدار ایک جیسے ہیں۔ اس دوران، ترقی پسندوںکی ایک نئی نسل پروان چڑھی جس نے صرف نتن یاہو کا اسرائیل ہی دیکھا تھا۔ نوجوانوں کا یہ گروہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ متنوع تھا، جس میں خاصی تعداد جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے مہاجرین کے بچوں کی تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے امریکی سیاست میں پرواسرائیل روایت کو مسترد کر دیا، وہ اسرائیل کو سخت ناپسندیدگی سے دیکھنے لگے، اور ہولوکاسٹ کے اس بیانیے سے ان کا کوئی لگاؤ نہیں تھا جو امریکی سیاسی ثقافت کا بنیادی ستون بن چکا تھا۔ امریکی یہودیوں کی بڑی تعداد نے بھی امریکی یہودی شناخت کے بنیادی ستون کے طور پر اسرائیل کی حمایت کو چیلنج کرنا شروع کر دیا؛ ان میں سے کچھ صیہونیت مخالف تحاریک کے نمایاں رہنما بھی بنے۔
انہی سالوں کے دوران، فرگوسن میں مائیکل براؤن اور منیاپولس میں جارج فلائیڈ کے قتل کے درمیانی عرصے میں، امریکی ترقی پسندوں کو ایک نسلی بیداری کا سامنا کرنا پڑا جس نے شناخت اور طاقت کے بارے میں ان کی سمجھ بوجھ کو ڈرامائی طور پر بدل دیا۔ایک ایسی تبدیلی جس کے ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کے اندر اسرائیل کے بارے میں بحث پر گہرے اثرات مرتب ہونے تھے۔ 2016 میں، 7 اکتوبر سے بہت پہلےموومنٹ فار بلیک لائیوز نے اپنی پالیسی کا منشور شائع کیا جس میں اس نے فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیل کی پالیسیوں کو نسل کشی قرار دیا تھا۔
حال ہی میںMAGAکے دائیں بازو کا ایک حصہ بھی امریکہ اسرائیل تعلقات کے خاتمے کی اس تحاریک میں ترقی پسند بائیں بازو کے ساتھ شامل ہو گیا ہے۔ اگرچہ ان کی تنقید کی بنیادی وجوہات مختلف ہیں۔ سام دشمنی پر مبنی ان سازشی نظریات سے ہٹ کر جس نے نوجوانوں اور آن لائن دائیں بازو کے ایک بڑے حصے کو گھیر رکھا ہے، ان لوگوں نے جوMAGAکے عدم مداخلت سے وابستہ ہیں، اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ دونوں اتحادیوں کے درمیان اب مفادات کی کوئی یکسانیت نہیں رہی، اور اسرائیل اور اس کے حامی امریکی خارجہ پالیسی کی تشکیل پر بے جا اور حد سے زیادہ اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں۔ وہ امریکی سلطنت کے انتظامات سے واشنگٹن کی واپسی کی امید کے تحت ماضی کے اتحادیوں کو دی جانے والی امریکی امداد میں کٹوتی کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو کوئی استثنیٰ حاصل ہونا چاہیے۔
اگر پرانی دو طرفہ پرواسرائیل متفقہ رائے ختم ہو چکی ہے، تو ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں پارٹیوں کے کناروں پر ایک نیا اسرائیل مخالف اتفاقِ رائے جنم لے رہا ہے۔ ڈیموکریٹس کے لیے، 2028ء کے انتخابات سے پہلے کے پرائمریز (انتخابات) یقینی طور پر اسرائیل کے معاملے پر ایک ریفرنڈم ہوں گے۔ پہلے ہی، کارکنوں نے امیدواروں پر زور دیا ہے کہ وہ AIPAC اور اسرائیلی لابی سے منسلک دیگر گروہوں سے فاصلہ اختیار کریں۔ عالمگیر صحت کی دیکھ بھال 2020ء کے پرائمریز کا نعرہ تھی؛ 2028ء میں اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد کو مشروط کرنا یا اسے ختم کرنا وہی کردار ادا کرے گا۔ بائیں بازو کے اندر، اسرائیل سے دشمنی جتنی زیادہ شدید ہو، اتنا ہی بہترترقی پسند امور پر کسی کی وفاداری کو پرکھنے کا ایک اہم معیار بنتی جا رہی ہے۔
ریپبلکنز کے درمیان، بہت کچھ ایران جنگ کے بعد کے حالات پر منحصر ہوگا۔ اگر امریکی عوام کو سفارتی اور معاشی نقصان پہنچا، تو اس کا الزام اسرائیل اور اس کے حامیوں پر عائد کیا جائے گا۔ یہ صورتحال ممکنہ طور پر نئے تنہائی پسندوں اور عدم مداخلت کے حامیوں کو مزید بااختیار بنائے گی، جن کے رہنما اس وقت نائب صدر جے ڈی وینس ہیں۔ لیکن اگر وہ ایران کے معرکے کے نتايج کی وجہ سے بدنام ہوتے ہیں، تو دیگر شخصیات بھی موقع کی تلاش میں ہیں، جن میں قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن شامل ہیں، جن کی صدارتی خواہشات کا ذکر ابھی صرف دبا کر کیا جاتا ہے۔ دائیں بازو پر بھی، اسرائیل کے لیے فوجی امداد میں کٹوتی ایک ایسا بنیادی موقف ہوگا جسےMAGAکی اکثریت قبول کر سکتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان تمام حالات کے بعد نتن یاہو کس مقام پر کھڑے ہیں؟ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی فوجی امداد میں متوقع کمی کو ایک ایسی سیاسی جنگ سے بچنے کے لیے اپنی تجویز کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے جسے اسرائیل جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ نتن یاہو نے اگلے عشرے میں اسرائیل کو امریکی امداد پر سے مکمل طور پر آزاد کرنے کا عہد کیا ہے۔ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے ایک ایسی تجویز تیار کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے، جس کے تحت امریکی فوجی سامان کی خریداری میں اسرائیل کو دی جانے والی موجودہ چھوٹ کے ماڈل کو مشترکہ ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کی کوششوں سے بدل دیا جائے گا۔جو سرد جنگ کے ابتدائی سالوں کے اسرائیل پر امریکی اسلحے کی پابندی کی طرف واپسی ہرگز نہیں ہے۔
پھر بھی، نتن یاہو اس خاص اتحاد کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے مستقبل کے بارے میں کچھ زیادہ ہی پرامید ہو سکتے ہیں۔ اس اتحاد کو ایک مسلمہ امر سمجھنے کے بعد، وہ شاید خود اس کے اس تیزی سے ہوتے زوال کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ جب وہ اقتدار سے رخصت ہوں گے، تو وہ اسرائیل کو پہلے سے کہیں زیادہ خراب اور کمزور حالت میں چھوڑ کر جائیں گے۔