النقب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی حکام نے النقب کے مقبوضہ علاقے میں واقع غیر تسلیم شدہ گاؤں ’السر‘ میں ۲۰ گھروں کے مالکان کو اپنے مسکن خود مسمار کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ حالیہ عرصے کے دوران علاقے میں ہونے والے سب سے بڑے انہدامی آپریشنز میں سے ایک ہے، جس نے النقب کے عوام اور عرب اداروں میں شدید غصے اور مذمت کی لہر پیدا کر دی ہے۔
’عرب 48‘ ویب سائٹ کے مطابق، انہدام کے ان آپریشنز میں ’الافشق‘ خاندان کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ قابض فوج کے دباؤ اور زبردستی کے باعث اس خاندان کو اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر گرانے پڑے۔
النقب میں غیر تسلیم شدہ دیہات کی علاقائی کونسل نے ان اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ گھروں کو خود گرانے پر مجبور کرنے کی پالیسی شہریوں کے رہائش اور سکون کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ متاثرہ خاندانوں کی سماجی اور انسانی صورتحال کو مزید ابتر بنا رہی ہے۔
یہ موقف غیر تسلیم شدہ دیہات کی علاقائی کونسل کے سربراہ عطیہ الاعسم کے گاؤں ’السر‘ کے میدانی دورے کے دوران سامنے آیا، جہاں انہوں نے الافشق خاندان کے افراد اور گاؤں کے دیگر رہائشیوں سے ملاقات کی اور انہدام سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔
اعطیہ الاعسم نے اس بات پر زور دیا کہ گاؤں میں جو کچھ ہوا وہ النقب کے عرب دیہات کے خلاف قابض حکام کی طرف سے اپنائی جانے والی انہدام اور تعاقب کی پالیسیوں کے تسلسل کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض حکام رہائش، منصوبہ بندی اور ان دیہات کو تسلیم کرنے کے منصفانہ حل تلاش کرنے کے بجائے یہ ظالمانہ طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو اپنے گھر خود گرانے پر مجبور کرنے کو ایک سفاکانہ اور غیر انسانی اقدام قرار دیا۔
النقب کے عرب دیہاتوں کو نشانہ بنانے والے انہدام اور بے دخلی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر، عرب النقب کی ہائی فالو اپ کمیٹی، النقب میں عرب مقامی حکام کے فورم اور غیر تسلیم شدہ دیہات کی علاقائی کونسل نے ان پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میدانی اقدامات اور سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے۔
منتظمین نے ’النقب کانفرنس‘، جو 2 جون سنہ2026ء کو منعقد ہونا تھی، کو ۴ جولائی سنہ ۲۰۲۶ء تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ متاثرہ دیہات کی حمایت اور میدانی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششوں کو مرکوز کیا جا سکے۔
مذکورہ تینوں اداروں نے 20 جون سنہ 2026ء کو ’تل عراد‘ گاؤں کے ساتھ یکجہتی کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ دن گاؤں میں ایک مرکزی تقریب کے ذریعے منایا جائے گا تاکہ ’النباری‘ قبیلے کے لوگوں کے عزم اور ان کے زمین، رہائش اور گاؤں کو تسلیم کروانے کے حق کی حمایت کی جا سکے۔
اسی تناظر میں، النقب کی قیادت اور عرب النقب کی ہائی فالو اپ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس جمعرات کے روز گاؤں ’السر‘ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ ان خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے جنہیں اپنے گھر گرانے پر مجبور کیا گیا، اور انہدام اور بے دخلی کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آئندہ کے عوامی اور جدوجہد کے اقدامات پر غور کیا جا سکے۔
عرب النقب کی ہائی فالو اپ کمیٹی، عرب مقامی حکام کے فورم اور غیر تسلیم شدہ دیہات کی علاقائی کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ ’السر‘ اور ’تل عراد‘ دیہات میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ النقب میں عربوں کی موجودگی کو نشانہ بنانے والی ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال زمین اور رہائش کے حق اور وقار کے ساتھ جینے کے حق کے دفاع کے لیے وسیع تر عوامی تحریک کا تقاضا کرتی ہے۔
مذکورہ اداروں نے النقب کے عوام کو آنے والی یکجہتی کی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی دعوت دی ہے، تاکہ انہدام اور بے دخلی کی پالیسیوں کے خلاف موقف میں اتحاد کا مظاہرہ کیا جا سکے اور النقب میں عربوں کے اجتماعی حقوق پر قائم رہا جا سکے۔
