رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) پرانی چوٹ جو انسان کو زیادہ دیر کھڑے ہونے سے محروم کر دے سے لے کر ایک ایسے نوجوان کے سینے میں اب تک پیوست گولی تک جس کی کوئی مناسب طبی پیروی نہیں کی جا رہی صہیونی ریاست کے النقب عقوبت خانے کے اندر اسیروں کی وہ کہانیاں بار بار دہرائی جا رہی ہیں جن کے بارے میں کمیشن برائے امور اسیران کا کہنا ہے کہ وہ طبی دیکھ بھال میں کمی، خوراک کی قلت اور ابتر ہوتے ہوئے رہائشی حالات کے سائے میں سخت قید کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بدنام زمانہ النقب جیل میں اسیروں کے حالات کا احاطہ کیا گیا اور سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی “مرکب محرومی” کی طرف اشارہ کیا گیا جس نے اسیروں کی گواہیوں کے مطابق علاج، خوراک، صفائی اور بنیادی دیکھ بھال کے شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
کمیشن نے طوباس کے علاقے طمون سے تعلق رکھنے والے اسیر مراد سلیمان بنی عودہ کے حالات پر روشنی ڈالی جو دس جون سنہ 2025ء سے قید ہیں اور انہیں انتظامی حراست میں منتقل کیا گیا ہے۔ یہ اسیر ساتویں بار حراست کے تجربے سے گزر رہے ہیں اور انتظامی حراست اور سزاؤں کے درمیان قابض صہیونی عقوبت خانوں میں تقریبا نو سال گزار چکے ہیں۔
بنی عودہ اپنی ٹانگوں میں گولی لگنے کے پرانے زخم کا شکار ہیں جن میں دھاتی پلیٹیں ڈالی گئی ہیں جبکہ کمیشن کا کہنا ہے کہ پٹھوں کی کمزوری ان کے کھڑے ہونے کی صلاحیت کو محدود کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ بیساکھیوں پر انحصار کرتے تھے جنہیں لگ بھگ ایک ماہ قبل جیل انتظامیہ نے ادویات اور مسکن دواؤں کی فراہمی بند کرنے کے ساتھ ہی ان سے چھین لیا تھا۔
کمیشن نے بتایا کہ خوراک کی کمی اور اس کے خراب معیار کے نتیجے میں بنی عودہ کا وزن چالیس کلو گرام کم ہو چکا ہے۔ وہ سات بچوں کے والد ہیں جن میں سے ایک بیٹا مجد جیل میں بھی قید ہے۔
بغیر طبی نگہدشت کے رستے زخم
کمیشن کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے صور باهر سے تعلق رکھنے والے اسیر ثائر شحادہ بکيرات کے ایک اور کیس کی توثیق کرتا ہے جو نو اپریل سنہ 2025ء سے قید ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بکيرات گرفتاری سے قبل اپنے سینے میں لگنے والی گولی کے نتیجے میں سانس لینے میں مسلسل تکلیف کا شکار ہیں اور گولی اب تک علاج یا ان ٹیسٹوں کے بغیر ان کے جسم میں پیوست ہے جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ انہیں ان کی ضرورت ہے۔
کمیشن کے وکیل کے سامنے اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ چوٹ ان کی نقل و حرکت کو محدود کرتی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ پیروی کی ضرورت ہے جبکہ انہیں ملنے والی دیکھ بھال کبھی کبھار دی جانے والی مسکن دواؤں تک محدود ہے۔
کمیشن برائے امور اسیران کا کہنا ہے کہ دونوں کیسز النقب جیل کے اندر ایک وسیع تر حقیقت کے ایک پہلو کی عکاسی کرتے ہیں جہاں رپورٹ کے مطابق اسیر ادویات اور طبی آلات کی کمی، خوراک کی قلت اور اس کے خراب معیار کے ساتھ ساتھ بھیڑ بھڑاکے، صفائی کے سامان کی کمی اور خارش کی بیماری کے پھیلنے کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان حالات کے اثرات بیمار اور زخمی اسیروں پر بڑھتے جا رہے ہیں جنہیں باقاعدہ پیروی اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کمیشن کے مطابق نگداشت کی کمی پرانے زخموں اور بیماریوں کے بگاڑ اور صحت کی پیچیدگیوں کے خطرات بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔
کمیشن کا ماننا ہے کہ یہ اعداد و شمار الگ تھلگ انفرادی معاملات کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ یہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اسرائیلی جیلوں کے اندر فلسطینی اسیروں کے حالات میں ایک وسیع تر گراوٹ کے سیاق و سباق میں آتے ہیں۔
کمیشن برائے امور اسیران نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسیروں کے حالات کی نگرانی کے لیے فوری مداخلت کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیمار اور زخمی افراد کو ضروری علاج اور دیکھ بھال ملے، خاص طور پر قید کے ان حالات کے تسلسل کے سایے میں جنہیں وہ ابتر قرار دیتے ہیں۔
وسیع تر منظر نامہ
یہ تصویر النقب جیل سے آگے بڑھ کر صہیونی جیلوں اور حراستی و تفتیشی مراکز میں قید ہزاروں فلسطینی اسیروں کو گھیرے ہوئے ہے۔
کمیشن برائے امور اسیران کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق فلسطینی اسیروں کی تعداد تقریبا نو ہزار چار سو اسیر ہے جن میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے لگ بھگ تین سو اسی بچے اور چورانوے خواتین اسیران شامل ہیں جبکہ الزام کے بغیر قید تین ہزار سے زائد انتظامی قیدی بھی موجود ہیں۔
انتظامی حراست فلسطینی اسیروں کے نمایاں ترین فائلوں میں سے ایک کی تشکیل کرتی ہے کیونکہ یہ خفیہ فائل کی بنیاد پر بغیر مقدمے کے قیدی کو روکنے کی اجازت دیتی ہے اور حراست کے حکم کی تجدید کے امکان کے ساتھ ہزاروں قیدیوں کو ان کی رہائی کی تاریخ کے بارے میں غیر یقینی کی مسلسل حالت میں رکھتی ہے۔
قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے وہ کمیشن برائے امور اسیران کے دستاویزی ثبوتوں کے مطابق آزادی سے محرومی سے آگے بڑھ کر غفلت، بھوک سے مارنے اور علاج سے محرومی کی ایک منظم پالیسی تک پھیلا ہوا ہے۔
چنانچہ کسی زخمی کو دوا کے بغیر چھوڑنا، معذور اسیر سے مدد کا ذریعہ چھین لینا اور کسی خطرناک زخم کو ٹیسٹ یا پیروی کے بغیر چھوڑنا قید کے حالات کی عام تفصیلات نہیں ہیں بلکہ یہ وہ اقدامات ہیں جو اسیروں کی زندگیوں اور صحت کو خطرے کے دائرے میں ڈالتے ہیں۔
جبکہ قابض اسرائیل ہزاروں فلسطینیوں کو قید رکھنا جاری رکھے ہوئے ہے جن میں بیمار، زخمی، بچے اور خواتین اسیران شامل ہیں، ان حالات کے بارے میں شہادتیں جمع ہو رہی ہیں جن کے بارے میں فلسطینی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ اسیروں کو ذلیل کرنے اور انہیں جسمانی اور نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
اس طرح قابض اسرائیل صرف اسیر سے اس کی آزادی چھیننے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ بیماری، بھوک اور درد کو سزا کے اضافی اوازوں میں بدل دیتا ہے، جو زندانوں کے پیچھے انسانی حقوق کی پامالی ہے، جب کہ قابض اسرائیل کی طرف سے فلسطینی اسیروں کے خلاف استعمال کی جانے والی منظم پالیسی کو روکنے کے لیے بین الاقوامی بے بسی پائی جاتی ہے۔
